محمود کی آمین — Page 231
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۲۹ حجة الله وقد جَدَّ شيخ المبطلين لمنعهم فهل عند شوق غالب مِن مُعوّق ) اور شیخ بٹالوی نے ان کے منع کرنے کے لئے کوشش کی مگر شائق کو کون روک سکتا ہے تسلَّتُ عمايات الهنود بسمعها وما قل بخل الشيخ فانظُرُ وعَمق ہندوؤں کے کورانہ خیال اس مضمون سے دور ہو گئے اور شیخ بطالوی کا نخل دور نہ ہوا پس سوچ اور غور کر ففاضت دموعي من تذكر بخله أهذا هو الرجل الذي كان يتقى پس مجھے اس کے بخل کا خیال کر کے رونا آیا کیا یہ وہی شخص ہے جو پرہیز گاری دکھلاتا تھا إذا قام للإسماع شيخ "بطالة" ففرت جموع كارهين كجورق اور جب سنانے کے لئے شیخ بٹالوی اٹھا تو اکثر لوگ کراہت کر کے شتر مرغ کی طرح بھاگے ولما تلا الشيخ المزوّر ما تلا فكان الأناس يرونه كيف ينطق اور جب شیخ دروغ آرا نے پڑھا جو پڑھا پس لوگ اس کو دیکھتے تھے کہ کیونکر پڑھتا ہے وكان يَعُتُ الكلم من غير حاجة ويأتي بألفاظ كصخرٍ مُدَمُلَقِ اور وہ کلموں کو بغیر حاجت کے بار بار پڑھتا تھا اور بڑے بھاری پتھر کی طرح الفاظ لاتا تھا ومن سمع قولى قبله ظنَّ أنّه لدى ثمرات العذق نافضُ عَسْبق اور جو شخص میرا قول اس سے پہلے سن چکا تھا وہ خیال کرتا تھا کہ کھجور کے پھلوں کے ہوتے ہوئے ایک کڑوے درخت کا پھل توڑ رہا ہے وقال أرى الإسلام كالجو خاليًا وما إن أرى الآيات من صالح تقى اور کہا کہ میں اسلام کو پول کی طرح خالی دیکھتا ہوں اور کوئی صاحب کرامت اس میں پایا نہیں جاتا فصال على الإسلام في جمع العدا وقد كان يعلم أنه يتخلق پس دشمنوں کے مجمع میں اسلام پر حملہ کیا اور وہ خوب جانتا تھا کہ وہ جھوٹ بولتا تھا وحمد كبراء الهنود ودينهم وداهن من وجه النفاق كمنفق اور ہندوؤں کے بزرگوں اور ان کے دین کی تعریف کی اور محتاجوں کی طرح نفاق سے مداہنہ کیا أراد ليُخزى ديننا من عداوتي فأخزاه رب قادر حافظ الحق اس نے ارادہ کیا کہ میری عداوت سے دین کو رسوا کرے سو خدائے قادر حق کے محافظ نے اس کو ہی رسوا کر دیا۔ فلما رأوا سِيَرَ الغراب بنطقه فقالوا لك الويلات إنك تنعق پس جب لوگوں نے کوے کی سیرت اس کے نطق میں دیکھی تو انہوں نے کہا تجھ پر واویلا تو تو کاں کال کر رہا ہے