محمود کی آمین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 494

محمود کی آمین — Page 229

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۲۷ حجة الله فكان بكلماتي يجرّ قلوبهم إليه ولم يسخر ولم يتملق ﴿٧٩﴾ پس وہ میرے کلموں کے ساتھ ان کے دلوں کو کھینچتا تھا اور نہ کوئی سحر تھا اور نہ کوئی دلجوئی تھی وأضحى يسحُ الماء ماء فصاحة على كل قلب مستعد مُجَعْفِقِ اور اس نے شروع کیا کہ ہر ایک مستعد دل پر جو طیار ہو فصاحت کا پانی گراتا تھا وكل أراؤوا من أسارير وجههم سرورًا وذوقا ما ينافي التأزق اور ہر ایک نے اپنے چہرہ کے نقشوں سے وہ سرور ظاہر کیا جو تنگ دلی کے منافی تھا و من سمع قولا غير ما قرأ فاشتكى كما تشتكى إبل عُقيب التبرق اور جس نے میرے قول کے سوا کوئی اور قول سنا پس اس نے گلہ کیا جیسا کہ اونٹ بروق کی بوٹی کھا کر زحمت کی شکایت کرتا ہے۔ وكانوا كمَمْحُو بعالم سكتة فيا عجبًا من ميلهم كالتعشق اور وہ لوگ عالم سکتہ میں محو کی طرح تھے پس کیا عجیب ان کی میل تھی جو عشق کے مانند ساتھ تھی و كم حكم كانت بلف كلامنا و کم درر كانت تلوح وتبرق اور بہت سی حکمتیں ہمارے کلام میں تھیں اور بہت سے موتی ستارہ کی طرح چمک رہے تھے جرائد أقوام تصدّت لذكرها لما رغبوا في وصف قولی کمنشقی قوموں کے اخباروں نے اس کا ذکر کیا ہے کیونکہ انہوں نے بات کے چنے والوں کی طرح میرے قول کی طرف رغبت کی ہے ترى زمر الأدباء في أخبارهم أشاعوا كلامي للأناس كمشفق تو ان کو دیکھتا ہے کہ انہوں نے اپنے اخباروں میں میرے کلام کو لوگوں میں مشفق کی طرح شائع کیا و كانت مضاميني كغيدٍ بلطفها فأصبت بحسن ثم لحن كيَلْمَقِ اور میرے مضامین نازک اندام عورتوں کی طرح تھے پس حسن کے ساتھ پھر اس آواز کیساتھ جو بطور قبا کے تھی دل اس کی طرف جھک گئے ولما رآها أهل رأى تمايلت عليه عيون قلوبهم بالتومُّقِ اور جب اس مضمون کو اہل الرائے لوگوں نے دیکھا تو ان کے دلوں کی آنکھیں دوستی کیساتھ اس طرف جھک گئیں ومر على الأعداء بعضُ رشاشها فنفيانها قد غسل أوساخ خُنُبق اور بعض رشحات اس کے دشمنوں پر گرے پس اس کے اڑنے والے قطروں نے متکبر بخیل کے میلوں کو دھودیا إلى هذه الأيام لم يُنسَ ذكرها وكل لطيف لا محالة يُرمَقِ ان دنوں تک ان کا ذکر فراموش نہیں ہوا اور ہر ایک لطیف ناچار ہمیشہ دیکھا جاتا ہے اور نظریں اس کی طرف لگی رہتی ہیں