محمود کی آمین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 494

محمود کی آمین — Page 220

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۱۸ حجة الله ۷۰ جاهلا بحتا عزّة المقابلة، وأرفع له ذكره في العامة ۔ فإن كنت من أدباء هذا کو مقابلہ کی عزت دوں اور عام لوگوں میں اس کا ذکر بلند کروں پس اگر تو اس زبان کے ادیبوں میں سے ہے اللسان، فلا يشق عليك أن ترينى فى العربية بعض درر البيان، بل إن كنت بارعًا پس یہ بات تجھ پر گراں نہیں آئے گی کہ تو عربی میں بعض گوہر بیان دکھلائے بلکہ اگر تو بغیر لاف و گزاف کے من غير التصلّف والمين، فستكتب جواب ذلك المكتوب في ساعة أو ساعتين در حقیقت فصیح و بلیغ ہے پس عنقریب تو اس خط کا جواب ایک گھڑی یا دو گھڑی میں لکھ دے گا ۔ اور میرے سوال ولا ترد مسألتي كالجاهل المحتال، بل تُملى بقدر ما أمليتُ وترسل في الحال ۔ کو جاہل حیلہ گر کی طرح رو نہیں کرے گا بلکہ جس قدر میں نے لکھا ہے اسی قدر تو لکھے گا اور فی الفور روانہ کر دے وعليك أن تراعى مماثلتي في النظم والنثر والمقدار، وتأتي بما أتيت به من درر گا ۔ اور تیرے پر لازم ہو گا کہ نظم اور نثر اور مقدار میں مماثلت کی رعایت رکھے اور میری طرح اپنے کلام کو کدرر البحار ۔ وإذا فعلت كله فأرسل إلى مكتوبك العربي بالسرعة، ثم أنزل جواہرات بلاغت سے پُر کرے ۔ اور جب تو نے یہ سب کچھ کر لیا پس اپنا مکتوب عربی جلدی میری طرف بھیج ساحتك كالصاعقة المحرقة، ويفتح الله بيننا بالحق وهو خير الفاتحين ۔ وإن دے۔ پھر میں تیرے صحن خانہ میں جلانے والی بجلی کی طرح نازل ہو جاؤں گا۔ اور خدا تعالیٰ ہم میں سچا فیصلہ کر كنت ما أرسلت جوابك إلى سبعة أيام، أو أرسلت فى الهندية كعوام، أو عربية دے گا اور وہ بہتر فیصلہ کر نیوالا ہے ۔ اور اگر تو نے سات دن تک جواب نہ بھیجا یا ہندی زبان میں عوام کی غير فصيحة كجهام، أوأرسلت قليلا من كلام فيثبت أنك طرح بھیجا یا عربی غیر فصیح میں جو اس بادل کی طرح ہے جس میں پانی نہیں یا تو نے کچھ تھوڑا سا کلام بھیجا۔ پس من السفهاء الجاهلين، لا من الأدباء المتكلمين، ومن العجماوات، لا ثابت ہو جائے گا کہ تو جہلاء میں سے ہے نہ ادیبوں میں سے اور چارپایوں میں سے ہے نہ