محمود کی آمین — Page 216
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۱۴ وإلى الله ارجعوا، فإنّه لا يُحبّ قومًا فاسقين۔ اور خدا کی طرف رجوع لاؤ کیونکہ وہ فاسقوں کو دوست نہیں رکھتا۔ حجة الله ومما ادعيت يا من أضاع الدين، أنك قلت إنى أناضل في العربية كالمرتجلين اور اے دین کے ضائع کرنے والے تیرے دعووں میں سے ایک یہ ہے کہ تو نے کہا ہے کہ میں عربی میں بدیہہ گولوگوں وأستملى كالأدباء الماهرين، وأكون من الغالبين۔ وَيُحَك يا مسكين، لم تُخزى اسم | کی طرح مقابلہ کروں گا اور ماہراد بیوں کی طرح لکھوں گا۔ اور غالب رہوں گا۔ وائے تجھ پر اے مسکین ۔ تو اپنے دنیا کے نام دنیاک وقد ضاع الدين؟ ألست الذي أعرفك من قديم الزمان۔ غبى الفطرة سفيه | کو کیوں رسوا کرنے لگا اور دین تو ضائع ہو چکا۔ کیا تو وہی نہیں جس کو میں قدیم زمانہ سے جانتا ہوں ۔ فطرت کا غبی دل کا الجنان، كثير الهذيان قليل العرفان، الموصوم بمعرّة لكن اللسان؟ أتصارع بهذه سفیہ بہت بک بک کر نیوالا کم معرفت لکنت لسان کا داغ رکھنے والا کیا تو اس قوت سے دلیر شدید القوت کے ساتھ کشتی القوة الفاتك البازل، وتحارب الكمى الجازل؟ كلا بل تريد أن ترى الناس کرے گا۔ اور سوار کاٹنے والے کے ساتھ جنگ کرے گا۔ ہرگز نہیں بلکہ تو تو اپنا عیب لوگوں کو دکھلانا چاہتا ہے۔ اور اپنی وصمتك، وتشهد على جهلك ابنتك، وإن كنتَ عزمت على مناضلتي، وأردت | ژولیدہ زبانی کو اپنی جہالت پر گواہ بنانا چاہتا ہے۔ اور اگر تو نے میرے جنگ کا قصد کر لیا ہے۔ اور ارادہ کر لیا ہے کہ میری أن تذوق حربى و حربتی، فأدعوك كما يُدعى الصيد للاصطياد، أو يُدنى النار جنگ اور میرے حربہ کا مزہ چکھے۔ پس میں تجھے اس طرح بلاتا ہوں جیسا کہ شکار پکڑنے کیلئے بلایا جاتا ہے۔ یا آگ للإخماد۔ بيد أنّى اشترطت من الابتداء أن لا يُعارضني أحد إلا بنية | بجھانے کیلئے نزدیک کی جاتی ہے۔ مگر یہ بات ہے کہ میں پہلے سے یہ شرط رکھتا ہوں کہ کوئی شخص بجز نیت ہدایت پانے الاهتداء ، فاسمع منّى أنّى أناضلك على هذه الشريطة ، ليهلك کے مجھ سے مقابلہ نہ کرے۔ پس مجھ سے سن کہ میں اسی شرط کے ساتھ تجھ سے مقابلہ کروں گا تا کہ جو بینہ