محمود کی آمین — Page 210
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۰۸ حجة الله ٢٠ بالخوف والارتعاد ۔ ثم إذا أنكر بعد الأشهر المعيّنة، فأخذه صول المرضة، وأوصله | خوف اور لرزہ میں گزارا پھر جب معین دنوں کے بعد منکر ہو گیا پس اس کو مرض کے حملہ نے پکڑا اور موت نے قبر الموت إلى التربة ۔ فلو كان هذا الإنكار فى الميعاد، لمات فيه بحكم رب العباد، وما | تک اسکو پہنچایا پس اگر یہ انکار میعاد کے اندر ہوتا تو آتھم میعاد کے اندر ہی مرتا اور خدا تعالیٰ ایسا نہ تھا کہ با وجود كان الله أن يأخذه مع خوف استولى على مُهجته، ولا يبالى ما ذكر في شريطته، إنه لا اس کے کہ آتھم کی جان پر خوف غالب رہتا پھر بھی اس کو پکڑ لیتا اور اپنی شرط کی کچھ پر واہ نہ رکھتا وہ اپنے وعدہ کے يُخلف ما وعد، ولا يطوى ما مهد ، وإنه لا يظلم الناس حتى يظلموا أنفسهم، وإنه بر خلاف نہیں کرتا اور جو بچھا یا اس کو نہیں پیٹتا وہ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا جب تک وہ خود ظلم نہ کریں اور وہ أرحم الراحمين۔ ارحم الراحمین ہے۔ وإن كنت لا تنتهى من التكذيب كاللئام، وتظنّ أن الفتح كان للنصارى - اور اگر تو تکذیب سے باز نہیں آتا اور خیال کرتا ہے کہ فتح نصاری کے لئے ہوئی نہ اسلام کیلئے پس لا للإسلام، فعليك أن تقسم بالله ذى العزة، وتشهد حالفا أن الحق مع النصارى - تیرے پر لازم ہے کہ تو جناب باری تعالیٰ کی قسم کھا جائے اور قسم کھا کر کہے کہ اس مقدمہ میں حق نصاری کے في هذه القضية، وتدعو الله أن يضرب عليك ذلّةً وخزيا من السماء ، إن كان ساتھ ہے اور خدا تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ آسمان سے تیرے پر ذلت کی مار نازل کرے۔ اگر حقیقت امر الأمر خلاف ذلك الادعاء فإن لم يُصبك بعد ذالك هوان وذلة خلاف واقعہ ہو پس اگر بعد اس کے ایک برس تک تجھ کو ذلت اور رسوائی نہ ہوئی پس میں اقرار إلى عام، فأقر بأني كاذب وأحسبك كإمام ۔ وإن لم تُقسم کرلوں گا کہ میں جھوٹا ہوں اور تجھ کو امام کی طرح جانوں گا اور اگر تو قسم نہ کھائے