محمود کی آمین — Page 208
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۰۶ حجة الله وما كان هذا إلا لضيق ربعك، وقساوة زرعك، ثم كان قدر الله فیک افتضاحك، فما اور یہ سب تیری تنگدلی اور سخت دلی کے سبب سے ہوا۔ پھر خدا کی تقدیر یہ تھی کہ تو رسوا ہو پس تو نے کوئی طریق اخترت طريقًا كان فيه صلاحك، وما أقصرت عن السب والإيذاء ، وآذيتني فبلغت الأمر صلاحیت کا اختیار نہ کیا اور تو نے کوئی دقیقہ گالی اور ایذا کا اٹھا نہیں رکھا اور تو نے مجھے دکھ دیا پس امر کو انتہا تک إلى الانتهاء ، والآن أكتب جواب اعتراضاتك، ليعلم الناس تعصبک و جهلا تک پہنچا دیا اور اب میں تیرے اعتراضات کا جواب لکھتا ہوں تا کہ لوگ تیری جاہلیت پر اطلاع پاویں اور تاکہ ولتستبين سبيل المجرمين۔ مجرموں کی راہ کھل جائے ۔ فمنها ما هذيتَ في قصة آتم، وتركت الحياء واخترت الإفك الأعظم۔ وقد پس ایک وہ اعتراض ہے جو تو نے قصہ آتھم میں بکواس کی۔ اور حیا کو ترک کر کے جھوٹ باندھا ہے۔ اور تو علمت أن أتم قدمات ، وتم فيه نبأ الله فلحق الأموات، وصدق الله فيه قولى جانتا ہے کہ آتھم مر گیا اور اس میں خدا کی خبر پوری ہوئی اور وہ مردوں کو جاملا ۔ اور خدا نے اس میں میرے قول کو وأخزى القتاة، فلا تغض عينك كالعمين۔ وأما ما تكلمت في موته بعد الميعاد سچا کیا اور نکتہ چینی کو رسوا کیا پس اندھوں کی طرح آنکھیں بند مت کر اور جو کچھ تو نے یہ گفتگو کی ہے کہ وہ میعاد کے فهذا حمقك يا قُضاعة العناد۔ أيها الجهول كان موت آتم مشروطًا بعدم بعد فوت ہوا ہے پس یہ تیری حماقت ہے اے کلب العناد ۔ اے نادان آتھم کی موت عدم رجوع کے ساتھ مشروط تھی الرجوع، وقد ثبت أنه خاف في الميعاد وزجى أوقاته بالخوف والخشوع، فلما اور ثابت ہو گیا کہ وہ میعاد میں ڈرتا رہا اور اپنے وقتوں کو خوف میں گذارا پس جبکہ اس کی میعاد گذر گئی اور اس انقضى ميعاده وعاد إلى سيرة الإنكار، أخذه نكال الله ومات في سبعة أشهر نے خصلت انکار کی طرف رجوع کیا پس خدا کے عذاب نے اس کو پکڑا اور آخری اشتہار سے