محمود کی آمین — Page 198
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۹۶ حجة الله قليلة، فانظر إلى كذبك يا رئيس المفترين وأظنّ أن بلادك أمحَلَتُ، أو المتربة عليك عرصہ سے۔ پس اے رئیس المفترین اپنے جھوٹ کی طرف دیکھ۔ اور میں گمان کرتا ہوں کہ تیرے ملک میں قحط پڑ گیا یا اشتدت، ففررت إلى بلاد المخصبين، لتدور حول البيوت، وتكسب القوت كبني غبراء تجھ پر فقر و فاقہ غالب آ گیا ۔ پس تو اس سبب سے ان لوگوں کے ملک کی طرف دوڑا جو رزق کی کشادگی رکھتے ہیں مُشَقْشِقين۔ فما أجاءك إلا فقرك إلى مغنانا الخصيب، فألقيت بها جرانک و آثرت تا کہ گداؤں کی طرح چلا کر بھیک مانگ کر گزارہ کرے۔ پس ہمارے سرسبز ملک کی طرف تیرا فقر و فاقہ تجھ کو کھینچ الحبوب على الحبيب، ثم سترت الأمر يا مضطرم الأحشاء ، ومضطرا إلى العشاء ، لایا ۔ پس تو نے یہاں اپنی گردن کو ڈال دیا اور وطن کے دوستوں پر اناج کو اختیار کر لیا۔ ۔ پھر تو نے اسے بھوکھ ۔ کے وتجافيت عن طرق الصادقين۔ هذا غرضك ومنيتك من هذا السفر، ولكنك سترجع جلائے ہوئے اور طعام شب کے محتاج حقیقت کو پوشیدہ کر دیا۔ اور سچوں کی راہ سے برگشتہ ہو گیا ۔ یہ تیری غرض اور خائبا ولا ترى فائزا وجه الحضر ؛ فاسترجع على ضَلَّة المَسْعَى، وإمحال المرعى، وسوء آرزو اس سفر سے ہے مگر تو خائب و خاسر رجوع کرے گا اور کامیابی میں اپنا وطن نہیں دیکھے گا ۔ پس اپنی سعی ضائع الرجعي، واخسأ فإنّك من المفسدين۔ وإنّى التقطت لفظك كل ما نفثت، ورددت - ہونے پر انا للہ کہہ اور نیز چرا گاہ کے قحط پر اور بد بازگشت پر افسوس کر اور دور ہو کیونکہ تو مفسد ہے۔ اور میں نے جو علیك جميع ما رفت، فَكُلُّ ما سقط عليك فهو منك يا أخا الغول، وليس منا کچھ تو بولا تھا تیرے ہی لفظ لئے ہیں اور جو کچھ تو نے بدگوئی کی میں نے تجھے واپس دیدی ۔ پس جو کچھ تیرے پر گرا إلا جواب الغوى الجهول، وما كنا سابقين۔ ولو كنت تخاف عرضک | وہ تیری ہی طرف سے ہے اے برادر غول ۔ اور ہماری طرف سے تو صرف جواب ہے۔ اور ہم نے سبقت نہیں کی وعزتك لهذبت قولك ولفظتك، ولكن كنت من السفهاء السافلين اور اگر تجھے اپنی عزت اور آبرو کا اندیشہ ہوتا تو تو مہذبانہ کلام کرتا مگر تو کمینوں اور سفلوں میں سے تھا ۔