لُجَّة النّور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 530

لُجَّة النّور — Page 233

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۳۳ خطبه الهاميه وانظروا كيف اقتضت غيرتهم أنهم ما رضوا و نیز نگاہے بکنید کہ غیرت ایشاں ہرگز روا نداشت که بعد موت رسول الله اور یہ بھی غور کرو کہ ان کی غیرت نے ہرگز نہ چاہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحيـاة نبـي بـعـد مـوت رسول الله، فهدوا إلى صلی اللہ علیہ و سلم بر حیات پیچ کدام نبی راضی بشوند پس خدا او شال را کی موت کے بعد کسی نبی کی حیات پر راضی ہو جائیں پس خدا نے ان کو الصراط كما يُهدى العاشقون واجتمعت ہماں طور را ے و راه حق بنمود که عاشقان نماید اس طرح سے حق کی راہ دکھلائی جس طرح عاشقوں کو دکھلاتا ہے۔ اور قلوبهم على مفهوم آية قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ دل ہائے ایشاں بر مفهوم آيت قد خلت من قبله الرسل اتفاق کردند ان کے دلوں نے قد خلت من قبله الرسل کی آیت کے مفہوم پر اتفاق کر لیا۔ و و آمنوا بــــه و كـــانـوا بــه يستبشرون ۔ ثم أتيتم به ایمان و آں آوردند پس شادمانی با کردند اور اس پر ایمان لائے اور اس پر خوش ہوئے۔ پھر صحابہ کے بعد بعدهم ۔ ما قدرتم نبيكم حق قدره وتقولون ﴿١٥٢﴾ بعد از اصحاب نوبت بشما رسید شما رعایت حق و قدر نبی پیچ بجا نیا وردید۔ وے گوئید تمہاری باری آئی تم نے اپنے نبی کی وہ قدر نہیں کی جو قدر کرنے کا حق تھا۔ اور کہتے ہو ما تقولون أتأمركم محبتكم بنبيكم أن يبقى روا دارد آنچه نے گوئید آیا محبت شما که عیسی جو کچھ کہتے کیا تمہاری محبت روا رکھتی ہے کہ عیسی ہو۔