لُجَّة النّور — Page 231
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۳۱ خطبه الهاميه بصميم القلب أن الأنبياء كلهم قد ماتوا وقد (١٥٠) ہمہ سارے انبیا ازیں نبی عالم فوت رخت بر بسته اند ہو چکے ہیں أدركهم المنون ۔ فما بقى لهم أسف على موت اکنوں اب اوشاں ان کو را اپنے بر رسول موت کی خویش رسول موت پر رسولهم ولا محل غبطة لحبيبهم، وتنبهوا رنج و غمی و برائے محبوب خویش محل تحتر و افسوس نماند و بر موت دے کوئی رنج اور غم اور اپنے پیارے کے لئے کوئی حسرت اور افسوس کی جگہ نہ رہی عــلــى مــوتـــه، وفاضت عيونهم وقالوا إنا لله و آگاه شدند و جوئے اشک خبردار از چشم روال ساختند اور اس کی موت پر خبردار اور آگاہ ہو گئے اور آنسوؤں کے دریا آنکھوں سے بہائے وإنا إليه راجعون ۔ وكانوا يتلون هذه و اور انا انا الله گفتند و این آیت را الله کہا اور اس آیت کو الآية فى السكك والأسواق والبيوت در کوچه گلی کوچوں و میں بازار اور و گھروں خانه میں ے پڑھتے خواندند تھے ويبكون ۔ وقال حسان بن ثابت وهو يرثى وے گریستند چنانچه حسان بن ثابت بعد از خطبه ابوبکر اور روتے تھے چنانچہ حسان بن ثابت نے حضرت ابوبکر کے خطبہ کے بعد