لُجَّة النّور — Page 183
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۸۳ خطبه الهاميه إن كنتم تعرفون ۔ أتعجبون أن يسمى الله ے آیا عجب کیا تم کو اس بات دارید سے خدا بعض را سے ازیں که تعجب ہے کہ خدا تم میں بعضكم يهوديا وبعضكم نصرانيا وبعضكم و بعضی را نصرانی نام گزارد از شما یہودی نام بنهد بعض کا نام یہودی رکھے اور بعض و بعضی را کا نام نصرانی اور بعضوں کو عيسى؟ فلا تكذبوا كلام الله وفكروا فيما (١٢) بنام عیسی یاد بفرماید پس تکذیب کلام خدا نکنید و در آنچه ایما فرموده فکر بکنید عیسی کے نام سے یاد فرماوے۔ پس خدا کے کلام کی تکذیب نہ کرو اور جس بات کا اشارہ کیا اس میں فکر کرو أومى، وانظروا حق النظر أيها المخطئون و حق اندیشه کردن اور خوب سوچو۔ بجا آرید کہتے بلکہ ے گویند ہیں که أم يقولون إنا لا نرى ضرورة مسيح ولا مهدى که ما هیچ احتیاج و ضرورت بمهدی و مسیح نداریم بلکه قرآن برائے ما بس است ہم کو مسیح اور مہدی کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ قرآن ہمارے لئے کافی ہے وكفانا القرآن وإنا مهتدون ۔ ويعلمون أن القرآن رو هستیم حالانکه مے دانند که قرآن کتابی است که اور ہم سیدھے راستے پر ہیں حالانکہ جانتے ہیں کہ قرآن ایسی کتاب ہے کہ و ما راست كتابُ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ۔ فاشتدت الحاجة بجز از پاکان دست فہم کیسے ہوے نہ مے رسد ازیں جاست که حاجت سوائے پاکوں کے اور کسی کی فہم اس تک نہیں پہنچتی۔ اس وجہ سے ایک ایسے الواقعة : ٨٠