لُجَّة النّور — Page 181
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۸۱ خطبه الهاميه الفاتحة قد بيّنت أن هذه الأمة امة وسط مستعدة سوره سوره می کند که این امت امت وسط است امت امت فاتحه آشکار فاتحہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ وسط ہے لأن تترقى، فيكون بعضهم كنبي من الأنبياء ، و برائے ترقیات آنچناں استعداد دارد که ممکن است که بعضی از یشان مانند انبیاء بشوند اور ترقیات کے لئے ایسی استعداد رکھتی ہے کہ ممکن ہے کہ بعض ان میں سے انبیاء ہو جائیں ومستعدة لأن تتنزل فيكون بعضهم يهودًا و ہم استعداد دارد که آنقدر پست و متنزل بشود که بعضی از ایشان اور یہ بھی استعداد اس میں ہے کہ یہاں تک پست اور متنزل ہو جائے کہ بعض ملعونين كقردة البيداء ، أو يدخلون في الضالين یہود و مانند بوزنگاں دشت ملعون بگردند یا در گمراهان داخل ان میں سے یہودی اور جنگل کے بندروں کی طرح لعنتی ہو جائیں یا گمراہ ہو جائیں ويتنصرون ۔ وكفاك هذا الدعاء الذي تقرأه و نصرانی بشوند اور نصرانی ہو جائیں۔ اور و ترا تیرے لئے یہ این دعا دعا جو تو في صلواتك الخمس إن كنت من الذين که در نماز پنجگانه میخوانی بس است اگر پانچ وقت نماز میں پڑھتا ہے کافی اگر ہے يطلبون الحق وإليه يحفدون۔ طلب حق در دل تست حق کی طلب تیرے دل میں ہے