لُجَّة النّور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 530

لُجَّة النّور — Page 176

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۷۶ خطبه الهاميه رحمته، لكن المخالفين لا يبصرون، بل يرونني فرو نمے گزارد و لیکن مخالفان نمی بینند بلکه مرا می بینند نہیں چھوڑتی لیکن مخالف نہیں دیکھتے بلکہ مجھ کو دیکھتے ہیں ويعبسون ويسبّون ويشتمون، ويحلفون حلفا و و بر سوگند و سر که بر ابرو می مالند دشنام می دهند سوگند جبیں ہوتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں اور قسم پر قسم اور چیں على حلف إنه كاذب ولا يبقى سر إلا يُبدى، ولا مے خورند که من کاذب هستم و هیچ رازی نماند که ظاهر نه شود و کھاتے ہیں کہ میں جھوٹا ہوں اور ایسا کوئی بھید نہیں رہا جو ظاہر نہ ہو اور قضية إلا تُقضى، فسيظهر ما في قلبي وما في بیچ قضیه که فیصله نه شود۔ قریب است که آنچه در دل من است و آنچه اوشاں نہ کوئی قضیہ جو فیصلہ نہ ہو۔ قریب ہے کہ جو کچھ میرے دل میں ہے اور جو کچھ ان کے قلبهم، ولا يكتم ما يكتمون ۔ هذان حزبان من در دل دل میں دارند آشکار ظاہر ہے ہو بشود این جائے۔ دو گروه از دو گروه یہ المغضوب عليهم وأهل الصلبان ذكرهما الله مغضوب مغضوب علیہم علیہم اور و اہل صليب اہل صلیب میں سے هستند ہیں کہ که خدا خدا نے في الفاتحة، وأشار إلى أنهما يكثران في و اشارت کرده که ور آخر زمان اوشان را در فاتحہ ذکر ایشان فرموده فاتحہ میں ان کا ذکر کیا ہے اور اشارہ کیا ہے کہ آخر زمانہ میں