لُجَّة النّور — Page 166
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۶۶ خطبه الهاميه في سورة النور، فما لكم تتركون لبَّ القرآن در سورة النور قبول فرمود پس چرا مغز قرآن را می گذارید و سورة نور میں قبول فرمایا پس کیوں قرآن کے مغز کو چھوڑتے ہو اور وعلى القشر تقنعون ۔ ولا غُمّة في مواعيد بر پوست قناعت می کنید در وعدہ ہائے قرآن پیچ پوشیدگی نیست چھلکے پر قناعت کرتے ہو۔ قرآن کے وعدوں میں کوئی پوشیدگی نہیں القرآن بل هو بيان واضح لقوم يفهمون ۔ بلکہ آں بیان بلکہ کھلا بیان واضح ہے ان است برائے آناں کہ لوگوں کے لئے جو ے سمجھتے فهمند ہیں فما لكم تردون نعم الله بعد نزولها؟ ، أنتم چه شد که نعمت ہائے خدا را بعد نزول آں می کنید آیا بہایم تمہیں کیا ہوا کہ خدا کی نعمتوں کو ان کے نازل ہونے کے بعد رد کرتے ہو۔ کیا رو نعم أو أناس عاقلون؟ وما قص الله علينا هستید یا و خدا در انسان دانشمند فاتحہ فرقہ ہائے حیوان ہو یا عقل والے انسان اور خدا نے فاتحہ میں تین فرقوں کا الفرق الثلاث في الفاتحة إلا ليشير إلى أن سم گانه را بہت آں بیان کرد که اشاره کند بسوئے اینکه اس لئے ذکر کیا ہے کہ تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ هذه الأمة ورثتهم في كل قسم من الأقسام این یہ امت امت ہر قسمے مذکورہ قسموں میں را از اقسام مذکوره سے وارث خواهد شد ہر ایک قسم کی وارث ہو گی۔