لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 397 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 397

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۹۷ تجلیات الهیه کہ جب دور خسروی یعنی دور مسیحی جو خدا کے نزدیک آسمانی بادشاہت کہلاتی ہے ششم ہزار کے آخر میں شروع ہوا جیسا کہ خدا کے پاک نبیوں نے پیشگوئی کی تھی تو اس کا یہ اثر ہوا کہ وہ جو صرف ظاہری مسلمان تھے وہ حقیقی مسلمان بننے لگے جیسا کہ اب تک چار لاکھ کے قریب بن چکے ہیں۔ اور میرے لئے یہ شہ لئے یہ شکر کی جگہ ہے کہ میرے ہاتھ پر چار لاکھ کے قریب لوگوں نے اپنے معاصی اور گناہوں اور شرک سے توبہ کی اور ایک جماعت ہندوؤں اور انگریزوں کی بھی مشرف باسلام ہوئی ۔ چنانچہ کل کے دن ہی ایک ہندو میرے ہاتھ پر مشرف با سلام ہوا جس کا نام محمد اقبال رکھا گیا اور میں کل کے دن چند دفعہ اس الہام الہی کو پڑھ رہا تھا کہ ۴ یک دفعہ میری روح میں یہ عبارت پھونکی گئی جو پہلے الہام کے بعد میں ہے۔ مقام اومبیس از راه تحقیر بدورانش رسولاں ناز کردند ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اس وحی الہی میں جو لکھی جاتی ہے میرے ہاتھ پر دین اسلام کے پھیلانے کی خوشخبری دی جیسا کہ اُس نے فرمایا: يا قمر يا شمس انت منى وانا منک یعنی اے چاند اور اے سورج ! تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں ۔ اس وحی الہی میں ایک دفعہ خدا تعالیٰ نے مجھے چاند قرار دیا اور اپنا نام سورج رکھا ۔ اس سے یہ مطلب ہے کہ جس طرح چاند کا نور سورج سے فیضیاب اور مستفاد ہوتا ہے اسی طرح میرا نور خدا تعالیٰ سے فیضیاب اور مستفاد ہے۔ پھر دوسری دفعہ خدا تعالیٰ نے اپنا نام چاند رکھا اور مجھے سورج کر کے پکارا اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی جلالی روشنی میرے ذریعہ سے ظاہر کرے گا ۔ وہ پوشیدہ تھا۔ اب میرے ہاتھ سے ظاہر ہو جائے گا ۔ اور اُس کی چمک سے دنیا بے خبر تھی مگر اب میرے ذریعہ سے اس کی جلالی چمک دنیا کی ہر ایک طرف پھیل جائے گی اور جس طرح تم بھجلی کو دیکھتے ہو کہ ایک طرف سے روشن ہو کر ایک دم میں تمام سطح آسمان کی روشن کر دیتی ہے۔ اسی طرح اس زمانہ میں بھی ہوگا ۔ خدا تعالیٰ مجھے ﴿۵﴾ مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تیرے لئے میں زمین پر اترا اور تیرے لئے میرا نام چپکا اور