لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 387

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۸۷ چشمه سیحی بھارا تارنے کے لئے دوزخ میں بھی گیا تھا اور وہ اپنے بندوں کو گنا ہوں سے نجات نہیں دے سکتا تھا جب تک آپ ان کے عوض نہ مرتا اور تین دن کے لئے دوزخ میں نہ جاتا اور نہ ہم عیسائیوں کی طرح یہ کہتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی اور الہام پر مہر لگ گئی ہے اور اب خدا تعالیٰ کے مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ بند ہے کیونکہ خدا تعالیٰ سورہ فاتحہ میں ہمیں تمام نبیوں کی متفرق نعمتوں کے وارث ٹھہراتا ہے اور اس امت کو خیر الامم قرار دیتا ہے۔ پس بلا شبہ خدا تعالیٰ کا حسن اور احسان جو سر چشمہ محبت کا ہے سب سے زیادہ اس پر ایمان لانا ہمارے حصہ میں آگیا ہے اور مسلمانوں میں سے سخت نادان اور بد قسمت وہ لوگ ہیں جو اس کے کمال حسن اور احسان کے انکاری ہیں ۔ ایک طرف تو اس کی مخلوق کو اس کی ص کی صفات خاصہ میں حصہ دار ٹھہرا کر توحید باری پر دھبہ لگاتے اور اُس کے حسن وحدانیت کی چمک کو شراکت غیر سے مسلمانوں کو خاص کر اہل حدیث کو توحید کا بڑا دعویٰ تھا مگر افسوس اُن پر بھی یہ مثل صادق آئی کہ مچھر چھاننا اور اونٹ نگلنا ۔ کیا ایسے لوگوں کو ہم موحد کہہ سکتے ہیں کہ ایک طرف تو حضرت عیسی کو خدا تعالیٰ کی طرح وحدہ لاشریک سمجھتے ہیں ۔ وہی ہے جو مع جسم عنصری آسمان پر گیا اور وہی ہے جو کسی دن مع جسم عنصری زمین پر آئے گا اور اُسی نے پرندے پیدا کئے ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کافروں نے قسمیں کھا کر بار بار سوال کیا کہ آپ مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ کے دکھلائیے ہم ابھی ایمان لائیں گے ان کو جواب دیا گیا کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولاً لا یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا عہد شکنی سے پاک ہے اور بموجب اس کے قول کے مع جسم عنصری آسمان پر نہیں جا سکتا کیونکہ یہ امر خدا کے وعدہ کے برخلاف ہے۔ وجہ یہ کہ وہ فرماتا ہے کہ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوْتُوْنَ * وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ کے پس کیا ہم سمجھیں کہ حضرت عیسی کو آسمان پر پہنچانے کے وقت خدا تعالیٰ کو اپنا یہ وعدہ یاد نہ رہایا عیسی بشر نہیں تھا۔ اگر عیسی مع جسم عنصری آسمان پر گیا ہے تو قرآن کے بیان کے رو سے لازم آتا ہے کہ عیسی بشر نہیں تھا۔ پھر دوسری طرف ان مدعیان اسلام نے دجال کے بھی وہ صفات بیان کئے ہیں جن سے اس کا خدا ہونا لازم آتا ہے ۔ یہ تو حید اور یہ دعوئی ۔ افسوس ! منه بنی اسرائیل ۹۴ الاعراف : ٢٦ الاعراف: ۲۵