لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 367

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۶۷ چشمه سیحی اور کامل ایمان نہ ہو اور میسر نہیں آسکتا جب تک کہ کامل معرفت اور کامل محبت اور کامل صدق ا کمال معرفت کی پہلی نشانی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم کامل پر کوئی داغ نہ لگایا جائے اور ابھی ہم ثابت کر چکے ہیں کہ جو لوگ روحوں اور ذرات اجسام کو انا دی اور قدیم جانتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کو کامل طور پر عالم الغیب نہیں سمجھتے ۔ اسی وجہ سے فلاسفہ ضالہ یونان کے جو روحوں کو انا دی اور قدیم سمجھتے تھے یہ عقیدہ رکھتے تھے جو خدا تعالیٰ کو جزئیات کا علم نہیں کیونکہ جس حالت میں ارواح اور ذرات عالم قدیم اور انادی اور خود بخود ہیں اور ان کے وجود خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں تو کوئی دلیل اس پر قائم نہیں ہو سکتی کہ ان کی دقیق در دقیق طاقتوں اور قوتوں اور پوشیدہ اسرار کا خدا کو علم ہو۔ یہ تو ظاہر ہے کہ وہ علم کامل جو اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی چیزوں کے پوشیدہ حالات کی نسبت مع تمام کیفیات اور تفاصیل کے ہو سکتا ہے اس کے برابر ممکن نہیں ﴿۲۵﴾ کہ دوسری چیزوں کے پوشیدہ حالات بتمام و کمال معلوم ہو سکیں بلکہ دوسرے علوم میں خطا اور غلطی کا احتمال رہ سکتا ہے۔ پس اس جگہ روحوں اور ذرات کے انادی اور قدیم کہنے والوں کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ علم ارواح اور ذرات کا جو خدا کی شان کے مناسب حال ہو یعنی جیسا کہ خدا کامل ہے وہ علم بھی کامل ہو۔ اس عقیدہ کی رو سے ( جو روحوں اور ذرات کو قدیم اور انادی جاننے کا عقیدہ ہے ) اُن کے پرمیشر کو حاصل نہیں۔ اور اگر کوئی کہے کہ حاصل ہے تو یہ بار ثبوت اس کے ذمہ ہے کہ رہے کہ دلیل واضح سے اس کو ثابت کرے نہ محض دعویٰ سے۔ ظاہر ہے کہ جس حالت میں روحیں قدیم سے خود بخود اور اپنے وجود کی آپ خدا ہیں تو اس صورت میں گویا وہ تمام روحیں کسی علیحدہ محلہ میں مستقل قبضہ کے ساتھ رہتی ہیں اور پرمیشر علیحدہ رہتا ہے کوئی تعلق درمیان نہیں اور اس امر کی وجہ کچھ نہیں بتلا سکتے کہ تمام روحیں اور تمام ذرات با وجود انادی اور قدیم اور خود بخود ہونے کے پرمیشر کے ماتحت کیونکر ہوگئیں ۔ کیا کسی لڑائی اور جنگ کے بعد یہ صورت ظہور میں آئی یا خود بخود روحوں نے کچھ مصلحت سوچ کر اطاعت قبول کر لی۔ ا