لیکچر لدھیانہ — Page 264
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۶۴ لیکچر لدھیانہ یا زندہ رہنے کی آرزو کرے یا کسی اور کے لئے تجویز کرے کہ وہ زندہ رہے؟ محبت کا تقاضا تو یہی ہے کہ آپ کی اتباع میں ایسا گم ہو کہ اپنے جذبات نفس کو تھام لے اور یہ سوچ لے کہ میں کسی کی اُمت ہوں ۔ ایسی صورت میں جو شخص حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ اب تک زندہ ہیں وہ کیوں کر آپ کی محبت اور اتباع کا دعوی کر سکتا ہے؟ اس لئے کہ آپ کی نسبت وہ گوارا کرتا ہے کہ مسیح کو افضل قرار دیا جاوے اور آپ کو مردہ کہا جاوے مگر اُس کے لئے وہ پسند کرتا ہے کہ زندہ یقین کیا جاوے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہتے تو ایک فرد بھی کافر نہ رہتا۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی نے کیا نتیجہ دکھایا ؟ بجز اس کے کہ چالیس کروڑ عیسائی ہیں ۔ غور کر کے دیکھو کہ کیا تم نے اس زندگی کے اعتقاد کو آزما نہیں لیا ؟ اور نتیجہ خطرناک نہیں ہوا؟ مسلمانوں کی کسی ایک قوم کا نام لو جس میں سے کوئی عیسائی نہ ہوا ہو مگر میں یقیناً کہہ سکتا ہوں ۔ اور یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر طبقہ کے مسلمان عیسائی ہو چکے ہیں اور ایک لاکھ سے بھی ان کی تعداد زیادہ ہوگی ۔ عیسائیوں کے ہاتھ میں مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے واسطے ایک ہی ہتھیار ہے اور وہ یہی زندگی کا مسئلہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ خصوصیت کسی دوسرے میں ثابت کرو۔ اگر وہ خدا نہیں تو پھر کیوں اسے یہ خصوصیت دی گئی؟ وہ حتی و قیوم ہے (نعوذ بالله من ذالک ) اس حیات کے مسئلہ نے ان کو دلیر کر دیا اور انہوں نے مسلمانوں پر وہ حملہ کیا جس کا نتیجہ میں تمہیں بتا چکا ہوں ۔ اب اس کے مقابل پر اگر تم پادریوں پر یہ ثابت کر دو کہ مسیح مر گیا ہے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ میں نے بڑے بڑے پادریوں سے پوچھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جاوے کہ مسیح مر گیا ہے تو ہمارا مذہب زندہ نہیں رہ سکتا۔ ایک اور غور طلب بات ہے کہ مسیح کی زندگی کے اعتقاد کا تو آپ لوگوں نے تجربہ کیا۔ اب ذرا اس کی موت کا بھی تجربہ کرو اور دیکھو کہ عیسائی مذہب پر اس اعتقاد سے کیا زد پڑتی ہے۔ جہاں کوئی میرا مرید عیسائیوں سے اس مضمون پر گفتگو کرنے کو کھڑا ہوتا ہے الحکم مورخہ ۷ ارستمبر ۱۹۰۶ ء صفحہ ۳۰۲