لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 597

لیکچر لاہور — Page 9

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۹ تذكرة الشهادتين وہ اُس گاؤں کو جو قادیان ہے کسی قدر ابتلا کے بعد اپنی پناہ میں لے لے گا آج خدا کے سوا کوئی ﴿۷﴾ بچانے والا نہیں۔ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے کشتی بنا۔ وہ قادر خدا تیرے ساتھ اور تیرے لوگوں کے ساتھ ہے۔ میں ہر ایک کو جو تیرے گھر کے اندر ہے بچاؤں گا مگر وہ لوگ جو میرے مقابل پر تکبر سے اپنے تئیں نافرمان اور اونچا رکھتے ہیں یعنی پورے طور پر اطاعت نہیں کرتے ۔ اور خاص کر میری حفاظت تیرے شامل حال رہے گی ۔ خدائے رحیم کی طرف سے سلامتی ہے۔ تم پر سلامتی ہے تم پاک نفس ہو۔ اور اسے مجرمو! آج تم الگ ہو جاؤ۔ میں اس رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور افطار کروں گا اور روزہ بھی رکھوں گا اور اُس کو ملامت کروں گا جو ملامت کرتا ہے اور تجھے وہ نعمت دوں گا جو ہمیشہ رہے گی اور اپنی تجلی کے نور تجھ میں رکھ دوں گا اور میں اس زمین سے وقت مقدر تک علیحدہ نہیں ہوں گا یعنی میری قہری تجلی میں فرق نہ آئے گا۔ میں صاعقہ ہوں اور میں رحمان ہوں صاحب لطف اور بخشش ۔ ذکر واقعہ شہادتین انہیں دنوں میں جبکہ متواتر یہ وحی خدا کی مجھ پر ہوئی اور نہایت زبردست اور قومی نشان ظاہر ہوئے اور میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا دلائل کے ساتھ دنیا میں شائع ہوا۔ خوست علاقہ حدود کا بل میں ایک بزرگ تک جن کا نام اخوند زادہ مولوی عبداللطیف ہے کسی اتفاق سے میری کتابیں پہنچیں ۔ اور وہ تمام دلائل جو نقل اور عقل اور تائیدات سماوی سے میں نے اپنی کتابوں میں لکھے تھے وہ سب دلا ہ سب دلیلیں اُن کی نظر سے گزریں اور چونکہ وہ بزرگ نہایت پاک باطن اور اہل علم اور اہل فراست اور خدا ترس اور تقوی شعار تھے۔ اس لئے اُن کے دل پر ان دلائل کا قومی اثر ہوا اور ان کو اس دعوے کی تصدیق میں کوئی دقت پیش نہ آئی۔ اور اُن کی پاک کانشنس نے بلا توقف مان لیا کہ یہ شخص منجانب اللہ اور یہ دعوی صحیح ہے۔ تب انہوں نے میری کتابوں کو نہایت محبت سے دیکھنا شروع کیا اور اُن کی روح جو نہایت صاف اور مستعد تھی میری طرف کھینچی گئی یہاں تک کہ ان کے لئے بغیر ملاقات کے دور بیٹھے رہنا نہایت دشوار ہو گیا ۔ آخر اس زبردست کشش اور محبت اور اخلاص کا اوی کا لفظ زبان عرب میں ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے کہ جب کسی شخص کو کسی قدر مصیبت یا ابتلا کے بعد اپنی پناہ میں لیا جائے ۔ اور کثرت مصائب اور تلف ہونے سے بچایا جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيمًا فَاوى - اسی طرح تمام قرآن شریف میں آوی اور اوی کا لفظ ایسے ہی موقعوں پر استعمال ہوا ہے کہ جہاں کسی شخص یا کسی قوم کو کسی قدر تکلیف کے بعد پھر آرام دیا گیا۔ منہ ل الضحى :