لیکچر لاہور — Page 380
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۷۶ چشمه سیحی مخاطب کر کے فرماتا ہے : يا قمر يا شمس انت منی و انا منک یعنی اے چاند ! اور اےسورج ! تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ۔ اب اس فقرہ کو جو شخص چاہے کسی طرف کھینچ لے مگر اصل معنے اس کے یہ ہیں کہ اول خدا نے مجھے قمر بنایا کیونکہ میں قمر کی طرح اس حقیقی شمس سے ظاہر ہوا اور پھر آپ قمر بنا کیونکہ میرے ذریعہ سے اُس کے جلال کی روشنی ظاہر ہوئی اور ہوگی ۔ یعقوب حضرت عیسی کا بھائی جو مریم کا بیٹا تھا وہ در حقیقت ایک راستباز آدمی تھا۔ وہ تمام باتوں میں توریت پر عمل کرتا تھا اور خدا کو واحد لاشریک جانتا تھا اور سؤر کو حرام سمجھتا تھا۔ اور یہودیوں کی طرح بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتا تھا اور جیسا کہ چاہیے تھا وہ اپنے تئیں ایک یہودی سمجھتا تھا۔ صرف یہ تھا کہ حضرت عیسی کی نبوت پر ایمان رکھتا تھا۔ لیکن پولوس نے بیت المقدس سے بھی نفرت دلائی۔ آخر خدا تعالیٰ کی غیرت نے اس کو پکڑا اور ایک بادشاہ نے اس کو سولی دے دیا اور اس طرح پر اس کا خاتمہ ہوا۔ حضرت عیسی علیہ السلام چونکہ صادق اور ۵۹ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے اس لئے وہ سولی سے نجات پاگئے اور خدا تعالیٰ نے اُن کو سولی پر سے زندہ بچالیا لیکن چونکہ پولوس نے سچائی کو چھوڑ دیا تھا اس لئے وہ لکڑی پر لٹکایا گیا۔ یادر ہے کہ پولوس حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی میں آپ کا جانی دشمن تھا اور پھر کہ آؤ اب انسان کو پیدا کریں۔ اس پر نادان مولویوں نے شور مچایا کہ دیکھو اب اس شخص نے خدائی کا دعوی کیا حالانکہ اُس کشف سے یہ مطلب تھا کہ خدا میرے ہاتھ پر ایک ایسی تبدیلی پیدا کرے گا کہ گویا آسمان اور زمین نئے ہو جائیں گے۔ اور حقیقی انسان پیدا ہوں گے۔ اسی طرح ایک دفعہ مجھے خدا نے مخاطب کر کے فرمایا ۔ انت منی بمنزلة اولادى۔ انت منى بمنزلة لا يعلمها الخلق یعنی تو مجھ سے بمنزلہ اولاد کے ہے اور تجھے مجھ سے وہ نسبت ہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔ تب مولویوں نے اپنے کپڑے پھاڑے کہ اب کفر میں کیا شک رہا اور اس آیت کو بھول گئے فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ منه بقیه حاشيه البقرة : ٢٠١ L