لیکچر لاہور — Page 354
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۵۰ چشمه سیحی اب ہم اصل امر کی طرف رجوع کر کے مختصر طور پر بیان کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ایک وحی اگر کسی گذشته قصه یا کتاب کے مطابق آجائے یا پوری مطابق نہ ہو یا فرض کرو کہ وہ قصہ یا وہ کتاب لوگوں کی نظر میں ایک فرضی کتاب یا فرضی قصہ ہے تو اس سے خدا تعالیٰ کی وحی پر کوئی حملہ نہیں ہو سکتا۔ جن کتابوں کا نام عیسائی لوگ تاریخی کتابیں رکھتے یا آسمانی وحی کہتے ہیں یہ تمام بے بنیاد باتیں ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں۔ اور کوئی کتاب ان کی شکوک و شبہات کے گند سے خالی نہیں اور جن کتابوں کو وہ جعلی اور فرضی کہتے ہیں ممکن ہے کہ وہ جعلی نہ ہوں اور جن کتابوں کو وہ صحیح مانتے ہیں ممکن ہے کہ وہ جعلی ہوں۔ خدا تعالیٰ کی کتاب ان کی مطابقت یا مخالفت کی محتاج نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ کی سچی کتاب کا یہ معیار نہیں ہے کہ ایسی کتابوں کی مطابقت یا مخالفت دیکھی جائے ۔ عیسائیوں کا کسی کتاب کو جعلی کہنا ایسا امر نہیں ہے کہ جو ۱۸) جوڈیشل تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے اور نہ ان کا کسی کتاب کو صحیح کہنا کسی با ضابطہ ثبوت پر مبنی ہے۔ نری اٹکلیں اور خیالات ہیں ۔ لہذا ان کے یہ بیہودہ خیالات خدا کی کتاب کے معیار ☆ نہیں ہو سکتے بلکہ معیار یہ ہے کہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کتاب خدا کے قانونِ قدرت اور قوی معجزات سے اپنا منجانب اللہ ہونا ثابت کرتی ہے یا نہیں ۔ ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین ہزار سے زیادہ معجزات ہوئے ہیں اور پیشگوئیوں کا تو شمار نہیں مگر دنیا میں ایک قرآن ہی ہے جس نے خدا کی ذات اور صفات کو خدا کے اس قانون قدرت کے مطابق ظاہر فرمایا ہے جو خدا کے فعل سے دنیا میں پایا جاتا ہے۔ اور جو انسانی فطرت اور انسانی ضمیر میں منقوش ہے۔ عیسائی صاحبوں کا خدا صرف انجیل کے ورقوں میں محبوس ہے اور جس تک انجیل نہیں پہنچی وہ اس خدا سے بے خبر ہے لیکن جس خدا کو قرآن پیش کرتا ہے اس سے کوئی شخص ذوی العقول میں سے بے خبر نہیں۔ اس لئے سچا خدا وہی خدا ہے جس کو قرآن نے پیش کیا ہے۔ جس کی شہادت انسانی فطرت اور قانونِ قدرت دے رہا ہے۔ منہ