لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 597

لیکچر لاہور — Page 350

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۴۶ چشمه سیحی بدی کی گئی مگر جو کوئی عفو کرے اور اس عفو میں کوئی اصلاح مقصود ہو تو اس کا اجر خدا کے پاس ہے یہ تو قرآن شریف کی تعلیم ہے مگر انجیل میں بغیر کسی شرط کے ہر ایک جگہ عفو اور درگزر کی ترغیب دی گئی ہے اور انسانی دوسرے مصالح کو جن پر تمام سلسلہ تمدن کا چل رہا ہے پامال کر دیا ہے اور انسانی قومی کے درخت کی تمام شاخوں میں سے صرف ایک شاخ کے بڑھنے پر زور دیا ہے اور باقی شاخوں کی رعایت قطعاً ترک کر دی گئی ہے۔ پھر تعجب ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اُس پر بددعا کی اور دوسروں کو دعا کرنا سکھلایا۔ اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو مگر خود اس قدر بد زبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور بُرے برے اُن کے نام رکھے ۔ اخلاقی معلّم کا فرض یہ ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھلاوے۔ پس کیا ایسی تعلیم ناقص جس پر انہوں نے آپ بھی عمل نہ کیا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے؟ پاک اور کامل تعلیم قرآن شریف کی ہے جو انسانی درخت کی ہر ایک شاخ کی پرورش کرتی ہے اور قرآن شریف صرف ایک پہلو پر زور نہیں ڈالتا بلکہ کبھی تو عفو اور درگزر کی تعلیم دیتا ہے مگر اس شرط سے کہ عفو کرنا قرین مصلحت ہو اور کبھی مناسب محل اور وقت کے مجرم کو سزا دینے کے لئے فرماتا ہے۔ پس در حقیقت قرآن شریف خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کی تصویر ہے جو ہمیشہ ہماری نظر کے سامنے ۔ لے سامنے ہے۔ یہ بات نہایت معقول ہے کہ خدا کا قول اور فعل دونوں مطابق ہونے چاہئیں یعنی جس رنگ اور طرز پر دنیا میں خدا تعالیٰ کا فعل نظر آتا ہے ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کی سچی کتاب اپنے فعل کے مطابق تعلیم کرے ۔ نہ قرآن شریف نے بے فائدہ عفو اور درگز رکو جائز نہیں رکھا کیونکہ اس سے انسانی اخلاق بگڑتے ہیں اور شیرازہ نظام درہم برہم ہو جاتا ہے بلکہ اس عفو کی اجازت دی ہے جس سے کوئی اصلاح ہو سکے۔ منہ