لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 347 of 597

لیکچر لاہور — Page 347

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۴۳ چشمه سیحی معجزہ ہونے کا دعوی پیش ہوا اور بڑے زور سے یہ دعوی کیا گیا کہ اس کی خبریں اور اس کے قصے سب غیب گوئی ہے اور آئندہ کی خبریں بھی قیامت تک اس میں درج ہیں۔ اور وہ اپنی فصاحت بلاغت کے رُو سے بھی معجزہ ہے۔ پس عیسائیوں کے لئے اس وقت یہ بات نہایت سہل تھی کہ وہ بعض قصے نکال کر پیش کرتے کہ ان کتابوں سے قرآن شریف نے چوری کی ہے۔ اس صورت میں اسلام کا تمام کاروبار سرد ہو جاتا مگر اب تو بعد از مرگ واویلا ہے۔ عقل ہرگز ہرگز قبول نہیں کر سکتی کہ اگر عرب کے عیسائیوں کے پاس در حقیقت ایسی کتابیں موجود تھیں جن کی نسبت گمان ہو سکتا تھا کہ ان کتابوں سے قرآن شریف نے قصے لئے ہیں خواہ وہ کتابیں اصلی تھیں یا فرضی تھیں تو عیسائی اس پردہ دری سے چپ رہتے پس بلا شبه قرآن شریف کا سارا مضمون وحی الہی سے ہے ۔ اور وہ وحی ایسا عظیم الشان معجزہ شخص تھا کہ اس کی نظیر کوئی شخص پیش نہ کر سکا۔ اور سوچنے کا مقام ہے کہ جو شخ کا۔ اور سوچنے کا مقام ہے کہ جو شخص دوسری کتابوں کا - چور ہو اور خود مضمون بناوے۔ اور جانتا ہے کہ فلاں فلاں کتاب سے میں نے یہ مضمون لیا ہے اور غیب کی باتیں نہیں ہیں اس کو کب جرات اور حوصلہ ہو سکتا ہے کہ تمام جہان کو مقابلہ 9 کے لئے بلاوے اور پھر کوئی بھی مقابلہ نہ کرے اور کوئی اس کی پردہ دری پر قادر نہ ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ عیسائی قرآن شریف پر بہت ہی ناراض ہیں اور ناراض ہونے کی وجہ یہی ہے کہ قرآن شریف نے تمام پر وبال عیسائی مذہب کے توڑ دیئے ہیں۔ ایک انسان بقیه حاشيه کہ بلند آواز سے کہہ دیا کہ اگر کوئی اس کو انسانی کلام سمجھتا ہے تو وہ جواب دے لیکن تمام مخالف خاموش رہے۔ مگر انجیل کو تو اسی زمانہ میں یہودیوں نے مسروقہ قرار دیا تھا۔ اور نہ انجیل نے دعوی کیا کہ انسان ایسی انجیل بنانے پر قادر نہیں۔ پس مسروقہ ہونے کے شکوک انجیل پر عائد ہو سکتے ہیں نہ قرآن شریف پر ۔ کیونکہ قرآن کا تو دعوی ہے کہ انسان ایسا قرآن بنانے پر قادر نہیں اور تمام مخالفین نے چپ رہ کر اس دعوے کا سچا ہونا ثابت کر دیا۔ منہ