لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 597

لیکچر لاہور — Page 299

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۹۵ لیکچر لدھیانہ پیدا کی جاوے۔ میں چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں میں جو خدا تعالیٰ کی بجائے دنیا کے بت کو عظمت دی گئی ہے اُس کی اَمَانِی اور امیدوں کو رکھا گیا ہے۔ مقدمات صلح جو کچھ ہے وہ دنیا کے لئے ہے۔ اس بت کو پاش پاش کیا جاوے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جبروت اُن کے دلوں میں قائم ہوا اور ایمان کا شجر تازہ بتازہ پھل دے۔ اس وقت درخت کی صورت ہے مگر اصل درخت نہیں کیونکہ اصل درخت کے لئے تو فرمایا أَلَمْ تَرَكَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أَكْلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا لے یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ کیوں کر بیان کی اللہ نے مثال یعنی مثال دین کامل کی کہ وہ بات پاکیزہ، درخت پاکیزہ کی مانند ہے جس کی جڑھ ثابت ہو اور جس کی شاخیں آسمان میں ہوں اور وہ ہر وقت اپنا پھل اپنے پروردگار کے حکم سے دیتا ہے۔ أَصْلُهَا ثَابِتٌ سے مراد یہ ہے کہ اصول ایمانیہ اس کے ثابت اور محقق ہوں اور یقین کامل کے درجہ پر پہنچے ہوئے ہوں۔ اور وہ ہر وقت اپنا پھل دیتا رہے کسی وقت خشک درخت کی طرح نہ ہو مگر بتاؤ کہ کیا اب یہ حالت ہے؟ بہت سے لوگ کہہ تو دیتے ہیں کہ ضرورت ہی کیا ہے؟ اس بیمار کی کیسی نادانی ہے جو یہ کہے کہ طبیب کی حاجت ہی کیا ہے؟ وہ اگر طبیب سے مستغنی ہے اور اس کی ضرورت نہیں سمجھتا تو اس کا نتیجہ اس کی ہلاکت کے سوا اور کیا ہوگا ؟ اس وقت مسلمان اَسْلَمْنَا میں تو بے شک داخل ہیں مگر آمنا کی ذیل میں نہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک نور ساتھ ہو۔ غرض یہ وہ باتیں ہیں جن کے لئے میں بھیجا گیا ہوں ۔ اس لئے میرے معاملہ میں تکذیب کے لئے جلدی نہ کرو بلکہ خدا سے ڈرو اور توبہ کرو کیونکہ تو بہ کرنے والے کی عقل تیز ہوتی ہے۔ طاعون کا نشان بہت خطرناک نشان ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کے متعلق مجھ پر جو کلام نازل کیا ہے وہ یہ ہے اِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ - یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس پر لعنت ہے جو خدا تعالیٰ پر افترا کرے ابراهیم : ۲۵ ۲۶