کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 630

کتاب البریہ — Page 51

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۱ كتاب البرية سے سخت انکاری ہوئے اور بالاتفاق کہا کہ یہ دعوی اس مسلسل تعلیم کے برخلاف ہے کہ جو توریت اور دوسری کتابوں سے خدا کے نبیوں کی معرفت چودہ سو برس سے آج تک ہمیں ملتی رہی ہے۔ سو عیسائی عقیدہ کے بطلان کے لئے اس سے زیادہ اور کیا دلیل ہوگی کہ وہ جس تعلیم کو سچی اور منجانب اللہ سمجھتے ہیں وہی تعلیم ان کے جدید عقیدہ کی مکذب ہے۔ اور ان کے اس عقیدہ سے ایسی کھلی کھلی مخالف ہے کہ کبھی کسی یہودی کو یہ شک بھی نہیں گذرا کہ اس تعلیم میں تثلیث بھی داخل ہے۔ ہاں عیسائی لوگ پیشگوئیوں کی طرف ہاتھ پیر مارتے ہیں مگر یہ خیال نہایت ہنسی کی بات اور قابل شرم ہے کیونکہ جن نبیوں کی یہ موحدانہ تعلیم تھی جو طور پر یہودیوں کے ہاتھوں میں چلی آئی کیونکر ممک کیونکر ممکن تھا کہا۔ من تھا کہ ایسے انبیاء علیہم السلام اپنی تعلیم کے مخالف پیشگوئیاں بیان کرتے اور اپنی تعلیم اور پیشگوئیوں میں ایسا تناقض ڈال مسلسل مل دیتے کہ تعلیم کا تو کچھ اور منشا اور پیشگوئیوں کا کچھ اور ہی منشا ہو جاتا۔ اور اس جگہ عقلمند کے لئے یہ ایک نکتہ نہایت ہدایت بخش ہے کہ پیشگوئیوں میں استعارات اور مجازات بھی ہوتے ہیں مگر تعلیم کے لئے تصریح اور تفصیل ضروری ہوتی ہے اس لئے جہاں کہیں تعلیم اور پیشگوئی کا تناقض معلوم ہو تو یہ لازم ہوتا ہے کہ تعلیم کو مقدم رکھا جائے۔ اور پیشگوئی کو اگر اس کے مخالف ہو ظاہر الفاظ سے پھیر کر تعلیم کے مطابق اور موافق کر دیا جائے تا رفع تناقض ہو۔ بہر حال تعلیمی مضمون کا لحاظ مقدم چاہیے۔ کیونکہ تعلیم علاوہ تصریح اور تفصیل کے اکثر معرض افادہ استفادہ میں آتی رہتی ہے۔ لہذا اس کے مقاصد اور مدعا کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتے برخلاف پیشگوئیوں کے کہ وہ اکثر گوشتہ گمنامی میں پڑی رہتی ہیں پس اس محکم اصول کے رو سے یہودی لوگ عیسائیوں کے مقابل پر اس بحث میں بال پر اس بحث میں بالکل سچے ہیں کیونکہ یہودیوں نے تعلیم کو پیشگوئیوں پر مقدم رکھا اور پیشگوئیوں کے وہ معنے کئے جو تعلیم کے مخالف نہ ہوں۔ مگر عیسائیوں نے پیشگوئیوں ﴿۳۱﴾ کے وہ معنے کئے ہیں جو تعلیم کے سراسر مخالف ہیں۔ ماسوا اس کے یہودیوں کے معنے اس طرح