کتاب البریہ — Page 24
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۴ كتاب البرية کا ذکر کیا ہے تو اس ذکر کا کیا موقعہ تھا اور کونسا جھگڑا اس بارے میں یہود اور نصاری کا دوا تھا۔ تمام جھگڑا تو یہی تھا کہ صلیب کی وجہ سے یہود کو بہانہ ہاتھ آگیا تھا کہ نعوذ باللہ یہ شخص یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملعون ہے ۔ یعنی اس کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوا۔ اور جب رفع نہ ہوا تو لعنتی ہونا لازم آیا کیونکہ رفع الی اللہ کی ضد لعنت ہے۔ اور یہ ایک ایسا انکار تھا جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے نبوت کے دعوے میں جھوٹے ٹھہرتے تھے کیونکہ توریت نے فیصلہ کر دیا ہے کہ جو شخص مصلوب ہو اس کا رفع الی اللہ نہیں ہوتا یعنی مرنے کے بعد راستبازوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف اس کی روح اٹھائی نہیں جاتی یعنی ایسا شخص ہرگز نجات نہیں پاتا ۔ پس خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے سچے نبی کے دامن کو اس تہت سے پاک کرے اس لئے اس نے قرآن میں یہ ذکر کیا وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ ۔ اور یہ فرمایا يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ آتی ہے۔ نا معلوم ہو کہ یہودی جھوٹے ہیں۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اور سچے نبیوں کی طرح رفع الی اللہ ہو گیا اور یہی وجہ ہے جو اس آیت میں یہ لفظ نہیں فرمائے گئے کہ را فعک الی السماء بلکہ یہ فرمایا گیا کہ را فعک الی تا صریح طور پر ہر ایک کو معلوم ہو کہ یہ رفع روحانی ہے نہ جسمانی کیونکہ خدا کی جناب جس کی طرف راستبازوں کا رفع ہوتا ہے روحانی ہے نہ جسمانی اور خدا کی طرف روح چڑھتے ہیں نہ کہ جسم ۔ اور خدا تعالیٰ نے جو اس آیت میں تو فی کو پہلے رکھا اور رفع کو بعد تو اسی واسطے یہ ترتیب اختیار کی کہ تا ہر ایک کو معلوم ہو کہ یہ وہ رفع ہے کہ جو راستبازوں کے لئے موت کے بعد ہوا کرتا ہے۔ ہمیں نہیں چاہیے کہ یہودیوں کی طرح تحریف کر کے یہ کہیں کہ دراصل توفی کا لفظ بعد میں ہے اور رفع کا لفظ پہلے کیونکہ بغیر کسی محکم اور قطعی دلیل کے محض ظنون اور اوہام کی بنا پر قرآن کو الٹ پلٹ دینا ان لوگوں کا کام ہے جن کی روحیں یہودیوں کی روحوں سے مشابہت رکھتی ہیں ۔ پھر جس حالت میں آیت فَلَمَّا تَوَ فَيْتَنِی ہے۔ میں صاف ل النساء : ۱۵۸ ۲ ال عمران : ۵۶ - المائدة : ۱۱۸