کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xliii of 630

کتاب البریہ — Page xliii

ٹائیٹل بار اول کر کچھ نہیں صرف ایک تہدید حکام ہےاور پھر الہام ہوا کہ صادق اس باشد که تیام بلا می گذارد با محبت با دفا۔ اس سے میں نے سمجھاکہ کسی قدر حکام کی طرف سے بلا آئے گی ۔ اور اس اموزون ابہام کے تصور سے مقامیرے دل اور روح سے یہ شعر سنا کہ گویا د و سرابیت اس کا ہے ہے گر قضا را عاشقی گردد اسیر بوسد آن زنجیر را که آشنا - منه قبول کر سکتا ہے کہ ایک جماعت بڑے بڑے معززوں کی جن میں تعلیم یافتہ ایم آس؟ کا وعدہ اس مقدمہ سے اٹھارہ برس پہلے دیا گیا تھا وہی وعدہ دوبارہ اس الہام میں لفظ ابراء کیسا تھے۔ رحمان ہوں ۔ میں مخالفوں میں پھوٹ ڈالوں گا۔ ( اسمیں یہ اشارہ ہے کہ آخر عبد الحمید اور پادری گہرے اور موز دین کی ابتلى المومنون - ماهذا الشديد الحكام أن الذي فرض عليك القرآن أرادت إلى معاد الى مع الافواج ۔۔ الهام - اليس الله بكاف عبده - فبراء الله مما قالوا كان عند الله وجيها والله مو من كيد الكافرين - ولتجعله امر ابتدا سے مقدر تھاد کھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۶ با این امر یہ پیشگوئی براہین احمدیہ میں اس مقدمہ سے اٹھارہ برس پہلے شائع ہوئی تھی اور پھر مقد م سے تین ماہ پہلے مندرجہ ذیل الہام اس ابتداء کے بار میں ہوئے ۔ قدم خدا جتنے خدمت قرآن مجھے سپرد کی ہے پھر سپرد کی ہے پھر تجھے قادیاں میں واپس لائے گا۔ میں اپنے فرشتوں کے ساتھہ نا گہانی طور پر تیری مدد کروں گا۔ میری مدد تجھے پہونچے گی۔ میں ذو الجلال بلند نشان والا در میرانشان ظاہر ہوگا ۔ یہ خداتعالی کی طرفسے پیشگوئی ہے جس سے قبل از وقت تقریبا دو تو معزز دوستوں کو اطلاعدی گئی تھی ۔ اور جیسا کہ براہین احمدیہ صفحہ ہ میں بری کرنے ؟ بل از دو تومور کو اطلاع گئی وریا که میان استان وار ۔ نے اور لئے بطور نشان شہرے کی چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ اور ہماری جماعت نے جو قبل از وقت یہ سب الہام کئے تو ان کی قوت اور زیادت ایمان کا موجب ہوا ۔ کیا کوئی نیک دل والے بٹالوی کو رسوا کیا اور قبل از وقت سب حال بتلا دیا ۔ اس لئے اس نشان عظیم کے لحاظ سے اس کتاب مبارک کا نام یہ رکھا گیا شهر رمضنا الذي انزل فيه القران جنوری شه گاه كتاب البرية مع مطلع ضیاء الاسلام قادیان میں پیچی أيارت البرية تعداد جلد ۔ سل امامی الفاظ کیوں نہیں لکھے گئے ۔ یہ ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ سے قریبا دو مہینے پہلے مجھے ایک خواب میں دکھائی دیا کہ ایک بجلی میرے ایک بجلی میرے مکان کی طرف آئی ہے مگر قبل اس کے کہ گرے واپس چلی گئی پس چلی گی اور پھر الہام وں میں چھوٹ اور ایک شخص متنافس کی ذلت اور اہانت اور علامت تحقق منا اور خیر حکم ابراء بے قصور تم انا بالحت لے مخالفوں احمدیہ کیا یہ ثابت نہیں ہوا کہ اپنے بندے کو خدا کافی ہے ؟ خدا نے اسکو اس الزام سے بری کیا جو پر لگایا گیا تھا اور دانے ہی کرنا تھاکہ وہ کافروں عیسائی مخالفانہ بیان کر دینگے۔ اور یہ فقرہ کہ تنافس کی ذا آتيك بفتة - ياتيك نصرتى انى انا الرحمن ذو المجد والمعالي ۔ آية للناس ورحمة منا وكان امرا مقضيا صفر ۵۶ براہین احمدید نافس کی ذلت اور اہانت اور علامت خلق یہ محمد حسین کی طرف اشارہ ہے کہ کریسی کے معاملہ میں اور پھر پادریوں کے خلاف واقعہ شہادت اوریہ فقرہ کہ ذلت اور اہانت ہو ا دیاگیا جسکی آنکھیں دیکھنے کی ہوں دیکھے کہ یہ کیسا نشان ہے اور تحقیق اور علماء دوکیل داخل ہیں وہ میرے لئے جھوٹ بو نہیں ۔ سوچو نکہ خدا ہے اور تحقیق کرے کہ کیا بہت ہے کہ نہیں کہ کئی مہینے پہلے ایک جماعت کیہ کو اس کی خیر دیگئی اور اندرجہ بالا الا ماتا ہے۔ اور اکٹر اسٹنٹ اور رئیس اور تاجر اور علا اور تحصیلدار اور اکٹر اسٹنٹ اور اور بی اے اور ایل ایل بی ۔ اور کے منصوبہ گوشت اور بے اڑکر دیتا۔ اوہ اس کاروائی کو بعض لوگوں کے لئے نشان رحمت بنا دیئے کہ اس سے ان کا ایمان قوی ہوگا، اور یم آیاتی بنے تھی اور تیرے ساتھ ہے اور نوں پر دواخانہ حکام کا ا بید ہو گا اس سے زیادہ نہیں ۔ وہ پر طرح طرح کی ذلت اور علامت خان استاد پیش آئی) در انجام کا یہ ہوگا کر تھیں بری اور بے تو ٹھرایا جائیگا گئے تھے اور اتھارہ برس پہلے براہین احمدیہ میں اسکا ذکر ہوچکا تھا کہ یہ قبل از وقت خبر اس جماعت کے اپنے اس مقدمہ میں احزاب کو شکست دی اور اُن میں پھوٹ ڈالی اور میری اہانت چاہنے اصل مقالہام کے بالوں کی نسبت بہت تھے نے لفاظ میں اُن کا ترجمہ کر دیا ہے پس کوئی شخص ہماری جماعت میں سے یہ خیال نہ کرے کرے