کتاب البریہ — Page 350
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۵۰ میری اٹھارہ سال کی تالیفات سے ظاہر ہیں۔ سب کی سب ضائع اور برباد نہ جائیں اور خدانخواستہ سرکار انگریزی اپنے ایک قدیم وفادار اور خیر خواہ خاندان کی نسبت کوئی تکدر خاطر اپنے دل میں پیدا کرے۔ اس بات کا علاج تو نے ابات کا علاج تو غیر ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کا منہ بند کیا جائے کہ جو اختلاف مذہبی کی وجہ سے یا نفسانی حسد اور بغض اور کسی ذاتی غرض کے سبب سے جھوٹی مخبری پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جان شار خاندان ثابت کرچکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودہ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ما تحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔ لہذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گذشتہ کے لحاظ سے سرکار دولت مدار کی پوری عنایات اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں تا ہر ایک شخص بے وجہ ہماری آبروریزی کے لئے دلیری نہ کر سکے۔ اب کسی قدر اپنی جماعت کے نام ذیل میں لکھتا ہوں:۔ ۱۴ خان صاحب نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر مالیر کوٹلہ کوٹله ۳ مرزا خدا بخش صاحب صاحب از ایچ پی سابق مترجم چیف کورٹ پنجاب جن کے خاندان کی خدمات گورنمنٹ عالیہ کو معلوم ہے حال تحصیلدار علاقہ نواب محمد علی خاں صاحب ریاست مالیر کوٹلہ منشی نبی بخش صاحب سب ہیڈ دفتر اگزیمینز ریلوے لاہور 1 ہیں۔ مولوی سید محمد عسکری خان صاحب رئیس کڑا ضلع الہ آباد ه با بو عبد الرحمن صاحب کلرک دفتر لوکو محکمہ ریلوے لاہور پیشنرڈ پی کلکٹر نائب مدار المهام ریاست بھوپال جن کی مولوی سید افضل حسین صاحب یک کلکٹرعلی گڑھ ضلع فرخ آباد نمایاں خدمات پر سرکار سے لقب عطا ہوا۔ اور چٹھیات کے میاں چراغ الدین صاحب پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ خوشنودی ملیں۔ پنجاب و رئیس لاہور