کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 630

کتاب البریہ — Page 345

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۴۵ نفاق اور بغض بڑھتا جاتا ہے اور اخلاقی حالات پر بھی اس کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ مثلاً حال میں جو ﴿9﴾ اسی ۱۸۹۷ء میں پادری صاحبوں کی طرف سے مشن پر لیس گوجرانوالہ میں اسلام کے رد میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس کا نام یہ رکھا ہے۔ امهات المؤمنین یعنی دربار مصطفائی کے اسرار وہ ایک تازہ زخم مسلمانوں کے دلوں کو پہنچانے والی ہے۔ اور یہ نام ہی ا کافی ثبوت اس تازہ زخم کا ہے۔ اور اس میں اشتعال دہی کے طور پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی ہیں اور نہایت دل آزار کلمے استعمال کئے ہیں۔ مثلاً اس کے صفحہ ۸۰ سطر ۲۱ میں یہ عبارت ہے۔ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ محمد صاحب نے خدا پر بہتان باندھا۔ زنا کیا اور اس کو حکم خدا بتلایا ۔ ایسے کلمات کسی قدر مسلمانوں کے دلوں کو دکھائیں گے کہ ان کے بزرگ اور مقدس نبی کو صاف اور صریح لفظوں میں زانی ٹھہرایا۔ اور پھر دل دکھانے کے لئے ہزار کا پی اس کتاب کی مسلمانوں کی طرف مفت روانہ کی گئی ہے۔ چنانچہ آج ہی کی تاریخ جو ۱۵ رفروری ۱۸۹۸ء ہے ایک جلد مجھ کو بھی بھیج دی ہے۔ حالانکہ میں نے طلب نہیں کی اور اس کتاب میں یعنی صفحہ ۵ میں لکھ بھی دیا ہے کہ اس کتاب کی ایک ہزار جلد میں مفت بصیغہ ڈاک ایک ہزار مسلمانوں کی نذر کرتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ جب ایک ہزار مسلمان کو خواہ نخواہ یہ کتاب بھیج کر ان کا دل دُکھایا گیا تو کس قدر نقض امن کا اندیشہ ہوسکتا ہے اور با یہ پہلی تحریر ہی نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی پادری صاحبوں نے بار بار بہت سی فتنہ انگیز تحریریں شائع کی ہیں اور بے خبر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے وہ کتابیں اکثر مسلمانوں میں تقسیم کی ہیں جن کا ایک ذخیرہ میرے پاس بھی موجود ہے جن میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدکار۔ زانی۔ شیطان۔ ڈاکو لٹیرا۔ دغا باز ۔ دجال وغیرہ دلآزار ناموں سے یاد کیا ہے۔ اور ی اس کتاب کو پر سوتم داس عیسائی نے گوجرانوالہ شعلہ طور پریس سے شائع کیا ہے۔ ہمارے بہت سے معزز دوستوں کے بھی اس بارے میں خطوط پہنچے ہیں کہ ان کو مفت بلا طلب + یہ کتاب بھیجی گئی ہے۔