کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 630

کتاب البریہ — Page 319

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۱۹ تہذیب کا دعوی تھا گالیاں دیتے اور اس بزرگ نبی کا نام نعوذ باللہ زانی اور ڈاکو اور چور رکھتے اور دنیا کے سب بدتر وں سے بدتر ٹھہراتے۔ بیشک یہ ان لوگوں کے لئے بڑے رنج کی بات ہے جو اس پاک رسول کی راہ میں فدا ہیں۔ اور ایک دانشمند عیسائی بھی احساس کر سکتا ہے کہ جب مثلاً ایسی کتاب امهات المؤمنین میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ زنا کار کے نام سے پکارا گیا اور گندے سے گندے تحقیر کے الفاظ آنجناب کے حق میں استعمال کئے گئے اور پھر عمد ہزار کا پی اس کتاب کی محض دلوں کے دُکھانے کے لئے عام اور خاص مسلمانوں کو پہنچائی گئی اس سے کس قدر دردناک زخم عام مسلمانوں کو پہنچے ہوں گے اور کیا کچھ ان کے دلوں کی حالت ہوئی ہوگی۔ اگر چہ بدگوئی میں یہ کچھ پہلی ہی تحریر نہیں ہے بلکہ ایسی تحریروں کی پادری صاحبوں کی طرف سے کروڑہا تک نوبت پہنچ گئی ہے مگر یہ طریق دل دُکھانے کا ایک نیا طریق ہے کہ خواہ مخواہ غافل اور بے خبر لوگوں کے گھروں میں یہ کتابیں پہنچائی گئیں۔ اور اسی وجہ سے اس کتاب پر بہت شور بھی اٹھا ہے۔ باوجود اس بات کے کہ پادری عمادالدین اور پادری ٹھا کر داس کی کتابیں اور نور افشاں کی پچیس سال کی مسلسل تحریر میں سختی میں اس سے کچھ کم نہیں ہیں۔ یہ تو سب کچھ ہو اگر ہمیں تو آیہ موصوفہ بالا میں یہ تا کیدی حکم ہے کہ جب ہم ایسی بد زبانی کے کلمات سنیں جس سے ہمارے دلوں کو دکھ پہنچے تو ہم صبر کریں اور کچھ شک نہیں کہ جلد تر حکام کو اس طرف متوجہ کرنا یہ بھی ایک بے صبری کی قسم ہے۔ اس لئے عقلمند اور دور اندیش مسلمان ہرگز اس طریق کو پسند نہیں کرتے کہ گورنمنٹ عالیہ تک اس بات کو پہنچایا جائے۔ ہمیں خدا تعالیٰ نے قرآن میں یہ بھی تعلیم دی ہے کہ دین اسلام میں اکراہ اور جبر نہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّینِ ۔ اور جیسا کہ فرماتا ہے أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ ۔ لیکن اس قسم کے حیلے اکراہ اور جبر میں داخل ہیں جس سے اسلام جیسا پاک اور معقول مذہب بدنام ہوتا ہے۔ غرض اس بارے میں میں اور میری جماعت اور تمام اہل علم اور صاحب تدبر مسلمانوں میں سے اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ کتاب امهات المؤمنین کی لغو گوئی کی یہ سزا نہیں ہے کہ ہم اپنی گورنمنٹ محسنہ کو دست اندازی کے لئے توجہ دلاویں گو خود دانا گورنمنٹ اپنے قوانین کے لحاظ سے جو چاہے کرے مگر ہمارا صرف یہ فرض ہونا چاہیے کہ ہم ایسے اعتراضات کا کہ جو در حقیقت نہایت نادانی یا دھوکہ دہی کی غرض سے کئے گئے ہیں خوبی اور شائستگی کے ساتھ جواب دیں اور پبلک کو اپنی حقیت اور اخلاق کی روشنی دکھلائیں۔ اسی غرض کی بنا پر یہ میموریل روانہ کیا گیا ہے۔ اور تمام جماعت ہماری معزز مسلمانوں کی اسی پر متفق ہے۔ الراقم خاکسار میرزا غلام احمد از قادیاں ضلع گورداسپور ۳ ماه شی ۱۸۹۸ء البقرة: ۲۵۷ یونس : ۱۰۰