کتاب البریہ — Page 284
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۸۴ كتاب البرية ۲۳۷ طرف سے کارروائی کی تھی۔ مباحثہ کے اختتام پر مرزا غلام احمد نے پیشگوئی کی کہ عیسائی جو مباحثہ میں شامل ہیں پندرہ مہینے کے اندر مر جائیں گے۔ اور ڈاکٹر کلارک بیان کرتا ہے کہ اس عرصہ کے دوران میں چار صاف حملے آتھم کی جان پر کئے گئے پیشگوئی بالآخر پوری نہیں ہوئی جلد اور ڈاکٹر کلارک نے غلام احمد کو پبلک میں جھوٹا پیغمبر ظاہر کیا۔ مباحثہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا صاحب کے دو مرید محمد یوسف خان جو مباحثہ میں اس کا سکریٹری تھا اور محمد سعید جو بروئے نکاح رشتہ دار تھا عیسائی ہو گئے اور یہ امر بمعہ اس نقصان شعبدہ بازی کے جو اس کی پیشگوئیوں کے خطا جانے کے پیدا ہوا مرزا صاحب کے لیے باعث رنج عظیم ہوا ۔ ڈاکٹر کلارک نے ایک انتخاب شہادۃ القرآن ۲۳۷ وہ نہیں رہی اور اقرار صلیب کے بعد یہ عذر کہ فلاں عورت یا فلاں مرد نے ان کو آسمان پر چڑھتے دیکھا تھا نہایت نکما اور فضول اور لغو عذر ہے۔ کاش یہ چڑھنا یہود کے علماء اور فقیہوں کو دکھلایا ہوتا اور اگر وہ دیکھتے بھی تو اس کا یہی نتیجہ ہوتا کہ وہ سمجھ لیتے کہ توریت منجانب اللہ نہیں ہے مگر اب تو عیسائیوں نے خود یہود کا ہاتھ بلند کر دیا کیونکہ جب یسوع کو مصلوب مان لیا تو اب بقیه حاشیه بقیه حاشیه در حاشیه کہ یہ اندھیرے کے مکان عیسائیوں کے نزدیک جہنم ہے۔ پھر کتاب جامعة الفرائض مطبوعہ امریکن مشن پر لیس لو دھیانه ۱۸۶۲ء صفحہ ۶۳ سطر ۱۶۔۷ امیں مسیح کی نسبت یہ عبارت ہے ۔ کیونکہ کوئی گناہ ایسا نہیں جس کو اس کا خون صاف نہ کر سکے اور کوئی گناہ ایسا نہیں جس کا اس نے بدلہ نہ دیا ہو اور کوئی سزاء گناہ ایسی نہیں جو اس نے نہ اٹھائی ہو ۔ اور ظاہر ہے کہ گنہگاروں کی خاص سزا جہنم ہے جس کا اٹھانا پوری سزا اٹھانے کیلئے ضروری ہے۔ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ ڈاکٹر کلارک کا یہ بیان صحیح نہیں ہے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور ہم بارہا بیان کر چکے ہیں کہ پیشگوئی دو پہلو رکھتی تھی ۔ ایک یہ کہ آتھم میعاد کے اندر عیسائیت پر استقلال دکھلا کر یعنی پیشگوئی سے خوف زدہ نہ ہونے کی حالت میں ضرور پندرہ مہینے تک فوت ہو جائے گا۔ دوسرے یہ کہ خوف زدہ ہونے کی حالت میں جبکہ پیشگوئی کی عظمت سے خوف ہو ہرگز میعاد کے اندرفوت نہ ہوگا ۔ سو چونکہ آتھم ڈرا اس لئے دوسرے پہلو کے موافق پیشگوئی پوری ہو گئی اور پھر اخفائے شہادت سے دوسرے الہام کے موافق فوت بھی ہو گیا اور ہم لکھ چکے ہیں کہ عیسائی فریق کا سرگروہ صرف آتھم ٹھہرایا گیا تھا۔ اور یہ امر بھی صحیح نہیں کہ مباحثہ کے اثر ر سے دومرید ہمارے عیسائی ہو گئے تھے بلکہ یہ دونوں سخت نا دان دنیا پرست جاہل تھے جن کو ہم نے اپنی جماعت سے نکال دیا تھا۔ یہ بھی کسی قدر جھوٹ ہے کہ احمد بیگ کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی بلکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ احمد بیگ پیشگوئی کی میعاد میں فوت ہو گیا اور بڑی صفائی سے پیشگوئی پوری ہوئی ۔ منہ