کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 630

کتاب البریہ — Page 270

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۷۰ كتاب البرية ۲۳۵ دفعہ عدالت میں پیش ہونے سے پہلے پر یمد اس نے پتہ قطب دین کا لکھا تھا۔ ( بسوال وکیل ۲۳۵ ملزم ) جب دوبارہ شہادت بٹالہ میں ہوئی اُسکے بعد ڈاکٹر صاحب کے پاس رہا تھا۔ دو سپاہی اور دو چوہڑے اور تین عیسائی میری حفاظت پر تھے یعنی اُنکے پہرہ میں مظہر تھا۔ مرزا صاحب کا کوئی آدمی مجھے نہیں ملا اور نہ اُس بیان کو میں نے کسی کی ترغیب اور تحریص سے لکھایا جو پولیس والے صاحب کے رو بروئے لکھایا گیا ہے۔ صرف صاحب نے کہا تھا کہ ہم سچ دریافت کرنا چاہتے ہیں اور میں نے خدا کے خوف سے سچ لکھا دیا۔ تھانہ داروں نے مجھے کوئی خوف یا ترغیب نہیں دی تھی۔ مرزا صاحب نے ہرگز مجھے نہیں کہا تھا کہ تم جا کر ڈاکٹر صاحب کو مار ڈالو۔ مسجد کے ساتھ والے کمرے میں کوئی شخص نہیں جاسکتا۔ وہ زنان خانہ صاحب مکان کا ہے۔ مجھے اُس کے دروازے کا کی زے کا بھی حال معلوم نہیں ہے۔ شیخ وارث دین ، بھگت پر ، یمد اس اور ایک اور عیسائی بوڑھا اور عبدالرحیم مجھے سکھلاتے رہے تھے۔ اُس رات کو جس کے دوسرے دن میری دوبارہ شہادت ہوئی ہے تا لا باہر سے مکان کو لگا کر مجھے اندر مکان کے بند رکھتے تھے۔ انار کلی میں مجھے سکھلاتے رہے تھے کہ تم بیان کرنا کہ مرزا صاحب نے مجھے مارنے کے واسطے بھیجا تھا۔ وکیل نے جب شام کے وقت مجھ سے پوچھا تھا اُسوقت ڈاکٹر صاحب ذرا فاصلے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وکیل نے کہا تھا کہ جو سوال ملزم کی طرف سے وکیل کرے اُس کا جواب قيه حاشيه با جیسا کہ لغت کی رو سے مفہوم لعنت کا ہے وہ تین دن تک کیوں محدود ہوگئی ۔ کیا تو ریت کا مطلب صرف تین دن ہیں یا ابدی لعنت ہے؟ اس خود تراشیدہ عقیدہ سے تو توریت باطل ہوتی ہے اور ممکن نہیں کہ خدا کا نوشتہ باطل ہو۔ علاوہ اس کے توریت کا مطلب تو یہ تھا کہ صلیب پر مارے جانے سے خدا کی طرف روح اٹھائی نہیں جاتی بلکہ جہنم کی طرف جاتی ہے ۔ چنانچہ یہ مؤخر الذکر جزو عیسائیوں کے عقیدہ میں داخل ہے اسی وجہ سے وہ لوگ نعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ تین دن تک جو لعنت کے دن تھے وہ نعوذ باللہ جہنم میں رہے اور