کتاب البریہ — Page 240
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۰۶ ۲۴۰ كتاب البرية ۲۰۶ نقل بیان پریم داس مشمول مثل فوجداری با جلاس کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ سرکار بذریعہ ڈاکٹر صاحب ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۰۷ اضابطہ فوجداری بیان پر سید اس با قرار صالح واقعه ۱۳ اگست ۱۸۹۷ء دستخط حام 15/8/9 میں قریب ۱۶ سال یا کم و بیش سے عیسائی ہوں ڈاکٹر صاحب کے ماتحت ہ سے سال ہو گئے ہیں۔ اس وقت بیاس پر تعینات ہوں ۔ عبدالحمید ۲۱ ۲۲ جولائی ۹۷ کو میرے پاس بھیجا گیا بق قيه حاشیه کی پیشگوئیوں سے منکر ہو گیا جو اسلامی تو اریخ میں اعلیٰ درجہ کے تو اتر پر ہے کیونکہ جب کہ ان لوگوں نے جو نو تعلیم یافتہ اور محققانہ طرز پر خیالات رکھتے تھے ان لوگوں کی یہ تقریریں سنیں کہ آخری زمانہ میں ایک دجال پیدا ہو گا جس کا گدھا قریباً تین سو ہاتھ لمبا ہو گا اور وہ دجال اپنے اختیار سے مینہ برسائے گا اور آفتاب نکالے گا اور مردے زندہ کرے گا اور بہشت اور دوزخ اس کے ساتھ ہوں گے اور خدا کی تمام چیزوں اور دریاؤں اور ہواؤں اور آگ اور خاک اور چاند اور سورج وغیرہ مخلوقات پر اس کی حکومت ہوگی اور ایک آنکھ سے کانا اور ایک آنکھ میں پھولا ہوگا اور خدا کے پرستار اس کے وقت میں تنگی اور امساک باراں سے مریں گے۔ ان کی دعا بھی قبول نہیں ہوگی اور دجال کے پرستار بڑے مزے میں ہوں گے۔ عین وقتوں پر دجال ان کی کھیتیوں میں مینہ برسا دے گا اور پھر آسمان سے مسیح بڑی شان سے اترے گا۔ دائیں بائیں اس کے فرشتے ہوں گے جہاں تک ، اس کا سانس پہنچے گا کافر لوگ اس سے مریں گے مگر دجال کو اپنے سانس سے مار نہیں سکے گا۔ آخر بڑی جدو جہد اور جاں کا ہی سے حربہ کے ساتھ اس کا کام تمام کرے گا۔ ان تقریروں سے نو تعلیم یافتہ لوگ بہت گھبرائے اور در حقیقت گھبرانے کا محل تھا۔ کیونکہ اگر دجال ایسا ہی ذوالاقتدار ہے تو جس حالت میں کہ مخلوق پرست لوگ بغیر اس کے کہ اپنے معبودوں سے کوئی خدائی کا کرشمہ دیکھیں ناحق مخلوق پرستی میں مبتلا ہو گئے ہیں اور کروڑہا تک ان کی نوبت پہنچ گئی