کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 630

کتاب البریہ — Page 228

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۲۸ كتاب البرية ۱۹۲ پہلے کبھی ایسا ارادہ میں نے نہیں کیا اور نہ کبھی مارنے پر مامور ہوا تھا۔ جب میں مسلمان تھا میں ۱۹۵ قتل کرنا جرم اور گناہ سمجھتا تھا مگر جب مرزا صاحب نے کہا کہ تم مقبول ہو جاؤ گے تو میرے خیال میں تبدیلی ہوئی اور پکا یقین ہو گیا کہ میں بہشت میں جاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مرزا صاحب سے ملوں میرا اپنا خیال یہ تھا کہ قتل کرنا گناہ ہے۔ گو محمدی مذہب کے رو سے کسی کافر کو مارنا ثواب ہے۔ یہ بات قرآن میں درج ہے۔ میں نے خود پڑھا ہے۔ ترجمہ لکھا ہوا دیکھ کر پڑھ قيه حاشي بقي یہود اور نصاری میں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت اختلاف تھا اور اب بھی ہے وہ اختلاف ان کے رفع روحانی کے بارے میں ہے۔ یہود نے صلیب دیئے جانے سے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ حضرت عیسی کا رفع روحانی نہیں ہوا اور نعوذ باللہ وہ ملعون ہیں۔ کیونکہ ان کے مذہب کے رو سے ہر ایک مومن کا مرنے کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے لیکن جو شخص صلیب کے ذریعہ سے مارا جائے اس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا یعنی وہ شخص لعنتی ہوتا نتی ہوتا ہے۔ پس یہودیوں کی یہی حجت تھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام مصلوب ہو گئے اس لئے ان کا رفع روحانی نہیں ہوا اور وہ لعنتی ہیں اور نالائق عیسائیوں نے بھی تین دن کے لئے حضرت عیسیٰ کو رفع سے محروم سمجھا اور لعنتی ٹھہرایا۔ اب قرآن شریف کا اس ذکر سے مدعا یہ ہے کہ حضرت عیسی کے روحانی رفع پر گواہی دے۔ سو اللہ تعالیٰ نے مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوہ کہہ کر نفی صلیب کی اور پھر اس کا نتیجہ یہ نکالا کہ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ " اور اس طرح پر جھگڑے کا فیصلہ کر دیا۔ اب انصافاً دیکھو کہ اس جگہ رفع جسمانی کا تعلق اور واسطہ کیا ہے۔ یہودیوں میں سے اب تک لاکھوں تک زندہ موجود ہیں ۔ ان کے عالموں فاضلوں کو پوچھ لو کہ کیا آپ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے مصلوب ہونے سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ان کا رفع روحانی نہیں ہوا یا یہ کہ ان کا رفع جسمانی نہیں ہوا ۔ ایسا ہی یہود یہ کہتے تھے کہ سچا مسیح اس وقت آئے گا کہ جب ایلیا نبی ملا کی کی پیشگوئی کے موافق دوبارہ دنیا میں آ جائے گا۔ پھر جبکہ النساء : ۱۵۸ ۲ النساء : ۱۵۹