کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 630

کتاب البریہ — Page 203

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۰۳ كتاب البرية بھی دینے سے معذور ہوں ۔ لیکھرام عیسوی مذہب کے خلاف تھا۔ اس کی تحریریں بر خلاف ۱۷۰ عیسائی مذہب کے ہم نے دیکھی ہیں شاید ایک دیکھی ہے وہ اچھا آدمی تھا گو اس کی اور میری رائے کا خلاف تھا۔ لیکھرام عیسائی مذہب پر حملہ کیا کرتا تھا۔ جہاں تک مجھ کو علم ہے لیکھرام کی ذات کے برخلاف کوئی عیسائی نہ تھا۔ سوال ۔ آپ کو معلوم ہے کہ بعض آر یہ جس فریق کا لیکھرام نہ تھا اور پرانے عقائد کے ہندو اور مسلمان لوگ لیکھرام کے برخلاف تھے۔ جواب۔ میں نہیں بتلا سکتا میں اخبار عام ۔ سماچار۔ ٹریبیون۔ پایونیر اخبارات کو نہیں دیکھا کرتا۔ ستیارتھ پرکاش کتاب ہم نے دیکھی ہے مگر پڑھی نہیں۔ ہم کو عم نہیں ہے کہ لیکھرام کے بر خلاف دہلی قيه حاشیه بقي اور ہمدرد اسلام کی تعریف کر سکتا ہے۔ حالانکہ اس مولوی صاحب کو یہ بھی معلوم تھا کہ براہین احمد یہ میں وہ الہام بھی ہیں جن میں خدا تعالی د میرا نام عیسی اور مسیح موعود رکھا ہے۔ غرض اس وقت تک کہ تصریح کے ساتھ میری طرف سے دعوی مسیح موعود ہونے کا نہیں ہوا تھا اور صرف مجدد ۱۷۰ چودھویں صدی ہونا عام لوگوں میں مشہور تھا کوئی بڑی مخالفت علماء کی طرف سے نہیں ہوئی بلکہ اکثر ان میں مصدق اور مطیع رہے۔ مگر اس دعوی مسیحیت کے وقت میں عجب طور کا شور علماء میں پھیلا اور ان میں سے اکثر لوگوں نے انواع اقسام کی خیانت سے عوام کو دھو کہ دیا اور بعض نے ان میں سے میری تکفیر کے بارے میں استفتاء طیار کیا اور بڑی کوشش کر کے صدہا کم فہم اور موٹی عقل والے لوگوں کے اُس پر دستخط کرائے۔ مگر جیسا کہ پہلے آثار نبویہ میں لکھا گیا تھا کہ اس آنے والے امام موعود کی تکفیر ہوگی اس پیشگوئی کو پورا کیا کیونکہ ان پاک نوشتوں کا پورا ہونا ضروری تھا۔ اور تعجب کہ مسیح موعود ہونے کے دعوے میں کوئی ایسی نئی بات نہیں تھی کہ جو براہین احمد یہ میں اس وقت سے اٹھارہ برس پہلے درج نہیں ہو چکی تھی۔ مگر پھر بھی نادان مولویوں نے اس دعوے پر بڑا شور برپا کیا۔ آخران کی فتنہ انگیزیوں کا یہ نتیجہ ہوا کہ گھر گھر میں عداوت پڑ گئی مسلمانوں کا ایک گروہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے خدا تعالیٰ نے “ ہونا چاہیے۔(ناشر)