کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 630

کتاب البریہ — Page 194

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۹۴ كتاب البرية اور ہم نے زیادہ یقین اس امر کا کیا تھا کہ اس کے حالات کی تحقیقات مناسب ہے باقی جملہ حالات کو یا تو شکی تصور کیا تھا یا یقین کیا تھا قادیاں سے دریافت کرنے سے مراد پختہ حالات معلوم کرنے کی تھی مرزا صاحب کے برخلاف مقدمہ کرنے کے واسطے نہ تھی ۔ ۳۱ جولائی ۹۷ء تک ہمارا کوئی ارادہ مقدمہ مرزا صاحب سے کرنے کا نہ تھا دریافت اس واسطے نہ کی تھی کہ مرزا صاحب پر مقدمہ بنایا جاوے گا ۳۱ / جولائی ۱۹۷ء سے پہلے ۳۰ جولائی ۹۷ء کو ہمیں معلوم ہو گیا تھا اور یقین ہوا تھا کہ عبدالحمید بد معاش زانی اور لچا وغیرہ ہے۔ ۲۵ جولائی ۹۷ء کو مرزا صاحب سے عبدالحمید کی بابت حالات کی خبر ہم کو ملی تھی۔ ۳۰ جولائی ۹۷ء کو حالات جہلم سے معلوم ہوئے تھے مرزا صاحب کا بیان بغیر زیادہ دریافت کے ہم نے باور نہیں کیا تھا۔ ہم کو تحقیقات سے ۱۲) معلوم ہوا تھا کہ عبد الحمید کبھی عیسائی نہیں ہوا تھا۔ قریب تین ماہ سے زیادہ وہ گجرات میں عیسائیوں کے پاس رہا تھا۔ فروری مارچ اور کچھ حصہ ماہ اپریل کا شاید تھا سوائے گجرات کے اور کہیں ہم نے خود ذاتی تحقیقات نہیں کی باقی شخص جنہوں نے تحقیقات کی تھی سب زندہ ہیں۔ عبدالحمید ایک جوان طاقتور ہے ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم سے طاقتور ہے یا نہ۔ جب میں اس کو امرتسر لایا تھا صاحب مجسٹریٹ ضلع نے میرا اور اس کا بیان لکھا اور اقبال کی تصدیق کی اور ع کی ضمانت کا وارنٹ ہے۔ مگر یادر ہے کہ حضرت عزت جل شانہ جب کسی کو نظر رحمت سے دیکھتا ہے تو ایک دوست کی طرح ایسے معاملات اس سے کرتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ کا ہنسنا بھی جو حدیثوں میں آیا ہے ان قيه حاشيه بق ہی معنوں کے لحاظ سے ہے۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب مجھے حضرت والد صاحب مرحوم کی وفات کی نسبت اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا جو میں نے ابھی ذکر کیا ہے تو بشریت کی وجہ سے مجھے خیال آیا کہ بعض وجوہ آمدن حضرت والد صاحب کی زندگی سے وابستہ ہیں پھر نہ معلوم کیا کیا ابتلا ہمیں پیش آئے گا تب اسی وقت یہ دوسرا الہام ہوا الیس الله بکاف عبده یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے اور اس الہام نے عجیب سکینت اور اطمینان بخشا اور فولادی میخ کی طرح