کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 630

کتاب البریہ — Page 191

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۹۱ كتاب البرية سانوں مہتر بیاس سے آیا ہوا تھا اس کے ہمراہ یہی تھا اور ہدایت کی تھی کہ عبد الحمید کو پریم داس کے حوالہ کر دو اور یہ خط دیدو۔ پریم داس کو ہدایت کی تھی کہ دین عیسوی کی تعلیم دو اور اس سے کام لو نازک اندام نہیں ہے۔ جب وہ امرتسر میں رہا تھا اس کی ظاہراً شکل شباہت سے وہ قاتل معلوم ہوتا تھا ۔ اب ویسی اس کی شکل شباہت نہیں رہی جب سے اس نے اقبال کرا ہے اسکی رگ ہائے میں ایک قسم کی حرکت معلوم ہوتی تھی اور آشوب والی آنکھیں تھیں جو بعد اقبال نہیں رہی ۔ مولوی عبدالرحیم نے بھی یہ تغیر اس میں معلوم کیا تھا جب تک وہ ہسپتال میں رہا اور اس کی حالت حسب مذکورہ بالا ہم دیکھتے تھے جب سے ہمارا وہ شک جڑ پکڑ گیا اور پختہ ہوا۔ جب بیاس بھیجا تھا کسی کو نہیں کہا تھا کہ اپنا بھید نہ دینا اور اس کا دھیان رکھنا امرتسر میں سب کو کہا تھا کہ اس کا حال دریافت کرو کہ کون ہے اور اس کے حالات کیا ہیں۔ یہ اپنے ﴿۱۵۹ حالات مختلف قسم کے بتلاتا تھا۔ خاص کر عبدالرحیم نے ہم سے کہا تھا کہ پتہ نہیں لگتا کہ کون ہے ۔ ۲۲ جولائی ۹۷ ء سے ۳۱ / جولائی ۹۷ ء تک عبد الحمید بیاس میں رکھا گیا تھا۔ دو تین دفعہ غالباً ہم بیاس گئے مگر خلوت میں اس کو نہیں دیکھا تھا عام طور پر دیکھتے رہے تھے اس نے کبھی بقيه حاشيه بہت بڑھ گیا تھا۔ اسی خیال سے قریباً چھ ماہ پہلے حضرت والد صاحب نے اس قصبہ کے وسط میں ایک مسجد تعمیر کی کہ جو اس جگہ کی جامع مسجد ہے۔ اور وصیت کی کہ مسجد کے ایک گوشہ میں میری قبر ہوتا خدائے عز وجل کا نام میرے کان میں پڑتا رہے کیا عجب کہ یہی ذریعہ مغفرت ہو۔ چنانچہ جس دن مسجد کی عمارت بہمہ وجوہ مکمل ہو گئی اور شاید فرش کی چند اینٹیں باقی تھیں کہ حضرت والد ۱۵۹ صاحب صرف چند روز بیمار رہ کر مرض پیچش سے فوت ہو گئے اور اس مسجد کے اسی گوشہ میں جہاں انہوں نے کھڑے ہو کر نشان کیا تھا دفن کئے گئے ۔ اللهم ارحمه و ادخله الجنة - آمين - قریباً اسی یا پچاسی برس کی عمر پائی۔ ان کی یہ حسرت کی باتیں کہ میں نے کیوں دنیا کے لئے وقت عزیز کھویا اب تک میرے دل پر دردناک اثر ڈال رہی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو دنیا کا طالب ہوگا