کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 630

کتاب البریہ — Page 179

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۷۹ كتاب البرية عبدالمجید بتلایا اور کہا کہ میں جنم کا برہمن ہوں اور کہ میرا ہندو نام رلیا رام ہے اور والد کا نام رام چند ہے اور کھجوری دروازہ بٹالہ کا رہنے والا ہوں طلبہ سال کی عمر میں مرزا نے مجھے مسلمان کیا تھا جس کو سات سال گذرے ہیں وہ ایک ہندو دوست کی ترغیب سے مسلمان ہوا تھا اور وہ دوست بھی اسی وقت مسلمان ہو گیا تھا۔ میرا دوست اروڑہ قوم کا تھا اور کر پارام اس کا نام تھا اب اس کا ۱۴۸ نام عبدالعزیز ہے اور بٹالہ میں کپوری دروازہ کے اندر تمبا کو فروشی کرتا ہے۔ سات سال کے عرصہ میں مرزا صاحب کے یہاں طالب علم رہا اور قرآن کی تعلیم پاتا رہا۔ حال میں جو مرزاہ صاحب کے دعاوی کی نسبت الہامات باطل ثابت ہوئے تو اس کو یقین ہوا کہ مرزا صاحب نبی نہیں ہیں اور اس نے خیال کیا کہ مرزا صاحب اچھے آدمی نہیں ہیں اور شر انگیز ہیں۔ میں سیدھے قادیان سے آیا ہوں ۔ اور عام طور پر علانیہ میں نے مرزا صاحب کو گالیاں دی تھیں ۔ جب میں وہاں سے چلا تھا میں اپنے ساتھ کچھ نہیں لایا۔ خداوند مسیح کا قول ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ پیچھے چلو میں اور کچھ نہیں چاہتا ؟ ں چاہتا صرف بپتسمہ لینا لینا چاہتا ہوں اپنی معاش ٹوکری اٹھا کر قلی گری کر کے بسر کروں گا ۔ ہم کو کوئی کافی وجہ اس نے نہ بتلائی کہ وہ امرتسر کیوں آیا ہے اور ملک داری کی لپیٹی گئی اور وہ سلسلہ ہمارے وقت میں آکر بالکل ختم ہو گیا اور ایسا ہوا تاکہ خدا خدا تعالیٰ نیا سلسلہ قائم کرے جیسا کہ براہین احمدیہ میں اُس سبحانہ کی طرف سے یہ الہام ہے ﴿۱۴۸ سبحان الله تبارک و تعالی زاد مجدک ینقطع آباء ک و يبدء منک یعنی خدا جو بہت برکتوں والا اور بلند اور پاک ہے اس نے تیری بزرگی کو تیرے خاندان کی نسبت زیادہ کیا۔ اب سے تیرے آبا کا ذکر قطع کیا جائے گا اور خدا تجھ سے شروع کرے گا۔ اور ایسا ہی اس نے مجھے بشارت دی کہ میں تجھے برکت دوں گا اور بہت برکت دوں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ بقيه حاشيه پھر میں پہلے سلسلہ کی طرف عود کر کے لکھتا ہوں کہ بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم