کتاب البریہ — Page 136
كتاب البرية ۱۳۶ روحانی خزائن جلد ۱۳ ﴾١٠٩ ۱۶۵ ،۹۲ 4۔1' ll'♡♡1 و ناحق قتل کرنے والے۔ حضرت ابراہیم مگار و کذاب۔ انبیاء احمق و مشرک۔ اور لیس مگارانہ چال چلا ۔ ادریس مگار فریبی ۔ اور لیس اور ابلیس میں کچھ فرق نہیں ۔ ابلیس اس سے افضل ۔ مسلمانوں کے پیغمبروں کو مسیلمہ کذاب پر ترجیح نہیں۔ دختر فروش۔ ازواج مطہرہ آنحضرت کی نسبت زنان پیغمبر ۔۔۔ بازاری عورتوں سے ذلیل ۔ بلکہ بازاری عورتیں ان سے بہتر ۔ مرتکب حرکات ناکارہ۔ عائشہ نے طلحہ سے زنا کیا۔ عائشہ بے حیا۔ خیرہ را۔ رض صحابه آ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ۔ خلیفہ دوم - منی خور ۔ اغلام کرانے والا ۔ صحابہ رسول کے ازواج رسول کو نظر بد سے دیکھنے والے۔ کمینہ و دیوت علی غدار - بڑا مگار ۔۔۔۔ صحابه رسول تلبیس ابلیس میں تندہ قتل بندگان خدا میں مصروف ۔ آنحضرت صلعم کے زمانہ کی دوسری مستورات مومنات کی نسبت۔ مسلمانوں کی عورتیں اور بیٹیاں بازار میں اجرت لے کر زنا کاری کرتی تھیں۔ مدینہ کی لڑکیاں ننگ و ناموس ترک کرنے والیں ۔ بعض مومنات خرچی لے کر سوسو آدمیوں سے روزمرہ زنا کراتی تھیں ۔ ائمہ اربعہ کی نسبت ابو حنیفہ نے ماں سے جماع و نکاح جائز کیا۔ وہ ماں بہن بیٹی سے زنا کو بُرا نہیں سمجھتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ماں سے زنا کیا اور داد دیوٹی کی دی۔ اس کے نزدیک لواطت بُری نہیں۔ جب امام کو اغلام کے لئے لڑکا نہ ملا تو جو رو سے لواطت کی۔ امام مالک مرتکب لواطت ہوا۔ امام شافعی کے نزدیک بھی جائز ہے۔ ابوحنیفہ موروثی دیوث وبے حیا۔۔ دیگر بزرگان دین کی نسبت۔ مؤلف تفسیر عزیزی بے تمیز ۔ مسلمانوں کے 001' 101' 171 76' V6' 66'