کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 630

کتاب البریہ — Page 107

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۰۷ كتاب البرية پھر اگر اس خیال سے ان کلمات کو ترجیح دی جاتی ہے کہ وہ معجزات سے ثابت ہو چکے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ یسوع کے معجزات تو اس زمانہ کے لئے صرف قصے اور کہانیاں ہیں کوئی بھی کہہ نہیں سکتا کہ میں نے ان میں سے کچھ آنکھوں سے بھی دیکھا ہے مگر وہ خوارق اور نشان جو خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھ سے ظاہر ہوئے ہیں وہ تو ہزاروں انسانوں کی چشم دید باتیں ہیں پھر یسوع کے معجزات کو جو محض قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں بتلائی جاتی ہیں۔ ان چشم دید نشانوں سے کیا مناسبت۔ پھر جب کہ خدا بنانے کے لئے گذشتہ قصے جن میں جھوٹ کی آمیزش بھی ہو سکتی ہے قبول کئے گئے ہیں تو موجودہ نشان بدرجہ اولی قبول کرنے کے لائق ہیں۔ اگر دنیا میں کسی عیسائی کے دل میں انصاف ہے تو وہ میری اس تقریر کو نہایت منصفانہ تقریر سمجھے گا۔ میں دوبارہ کہتا ہوں کہ میری تقریر کا ماحصل یہ ہے کہ عیسائیوں نے جو حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا بنا رکھا ہے یہ سراسر ان کی غلط نہی ہے۔ جن کلمات سے وہ یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ یسوع خدایا ابن اللہ ہے ان کلمات سے بڑھ کر میرے الہامی کلمات ہیں پادری صاحبان سوچیں اور خوب سوچیں اور بار بار سوچیں کہ یسوع کو خدا بنانے کے لئے ان کے ہاتھ میں بجز چند کلمات کے اور کیا چیز ہے۔ پس میں ان سے یہی چاہتا ہوں کہ وہ میرے الہامی کلمات کو ان کلمات کے ساتھ مقابلہ کر کے دیکھیں اور پھر انصافاً گواہی دیں کہ اگر ظاہر الفاظ پر اعتبار کیا جائے تو ایک شخص کے خدا بنانے کے لئے جیسے میرے الہامی کلمات قوی دلالت رکھتے ہیں یسوع کے الہامی کلمات ہرگز ایسے دلالت نہیں رکھتے تو پھر کیا وجہ کہ ان کلمات سے یسوع کو خدا بنایا جاتا ہے۔ اور وہی کلمات بلکہ ان سے بڑھ کر جب دوسرے کے حق میں ہوں تو پھر اس کے اور معنے کئے جاتے ہیں۔ اگر کہو کہ پہلی کتابوں میں مسیح کے آنے کی خبر دی گئی تھی تو میں کہتا ہوں کہ ان ہی کتابوں میں بلکہ مسیح کی زبان سے بھی مسیح کے دوبارہ آنے کی خبر دی گئی تھی اور وہ میں ہوں۔ چنانچہ جیسا کہ انجیل میں لکھا تھا زلزلے بھی آئے۔ ایک قوم کی دوسری قوم سے لڑائیاں ہوئیں سخت سخت و بائیں پڑیں اور آسمان میں بھی نشان ظاہر ہوئے