کتاب البریہ — Page 82
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۸۲ كتاب البرية ۵۸ دوسروں کو بھی معرض خطر میں ڈالتی ہے اور وہ عذاب جو اس پر وارد ہوتا ہے باہر سے نہیں آتا بلکہ وہی حالت اس کی اس عذاب کو پیدا کرتی ہے۔ بے شک عذاب خدا کا فعل ہے مگر اس طرح کا مثلاً جبکہ ایک انسان سم الفار کو وزن کافی تک کھالے تو خدا تعالیٰ اس کو مار دیتا ہے یا مثلاً جب ایک انسان اپنی کوٹھڑی کے تمام دروازے بند کر دے تو خدا تعالیٰ اس گھر میں اندھیرا پیدا کر دیتا ہے۔ یا اگر مثلاً ایک انسان اپنی زبان کو کاٹ ڈالے تو خدا تعالی قوت گویائی اس سے چھین لیتا ہے۔ یہ سب خدا تعالیٰ کے فعل ہیں جو انسان کے فعل کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ ایسا ہی عذاب دینا خدا تعالیٰ کا فعل ہے جو انسان کے اپنے ہی فعل سے پیدا ہوتا اور اسی میں جوش مارتا ہے۔ اس کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے نَارُ اللهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ یعنی خدا کا عذاب ایک عذاب ہے جس کو خدا بھڑکاتا ہے اور پہلا شعلہ اس کا انسان کے اپنے دل پر سے ہی اٹھتا ہے۔ یعنی جڑ اس کی انسان کا اپنا ہی دل ہے اور دل کے ناپاک خیالات اس جہنم کے ہیزم ہیں۔ پس جبکہ عذاب کا اصل تخم اپنے وجود کی ہی ناپا کی ہے جو عذاب کی صورت پر متمثل ہوتی ہے تو اس سے ماننا پڑتا ہے کہ وہ چیز جو اس عذاب کو دور کرتی ہے وہ راستبازی اور پاکیزگی ہے۔ اور ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ عذاب ایک سلبی چیز ہے کیونکہ راحت اور آرام ایک طبعی امر ہے اور اس کے زوال کا نام عذاب ہے اور قانون قدرت گواہی دیتا ہے کہ ہمیشہ امر سلبی امر ایجابی کے پیدا ہونے سے دور ہو جاتا ہے۔ مثلاً کوٹھڑی کے دروازے بند کرنے سے جو ایک تاریکی پیدا ہوتی ہے یہ ایک امر سلبی ہے اور اس کا پہلا اور سیدھا علاج یہ ہے کہ آفتاب کی سمت کے دروازے کھول دیئے جائیں اور دروازہ کھولنا ایک ایجابی امر ہے۔ غرض اس جگہ حقیقی نجات کے حاصل کرنے کے لئے کسی تیسری شے کی حاجت نہیں پڑتی۔ مثلاً ایک بند کوٹھڑی کا اندھیرا دور کرنے کے لئے اسی قدر کافی ہے کہ اس کے دروازے کھول دیئے جائیں۔ اسی لئے قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ خدا کی توحید پر علمی اور عملی طور پر قائم ہونے ا الهمزة : ۸،۷