کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 630

کتاب البریہ — Page 61

روحانی خزائن جلد ۱۳ ٦١ كتاب البرية بھاری مصیبت ان کو یہ پیش آئی ہے کہ وہ اپنے مذہب کے روحانی برکات ثابت نہیں کر سکے یہ ﴿۳۹﴾ تو ظاہر ہے کہ جس مذہب کے قبولیت کے آثار آسمانی نشانوں سے ظاہر نہیں ہیں وہ ایسا آلہ نہیں ٹھہر سکتا جس کو خدا نما کہہ سکیں۔ بلکہ اس کا تمام مدار قصّوں اور کہانیوں پر ہوتا ہے۔ اور جس خدا کی طرف وہ راہ دکھلانا چاہتا ہے اس کی نسبت بیان نہیں کر سکتا کہ وہ موجود بھی ہے اور ایسا مذہب اس قدر نکما ہوتا ہے کہ اس کا ہونا نہ ہونا برا بر ہوتا ہے۔ اور ایک مچھر پر غور کر کے خدا کا پتہ لگ سکتا ہے اور ایک پشتو کو دیکھ کر صانع حقیقی کی طرف ہمارا ذہن منتقل ہو سکتا ہے مگر ایسے مذہب سے ہمیں کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا کہ جو اپنے پیٹ میں صرف قصّوں اور کہانیوں کا ایک مردہ بچہ رکھتا ہے۔ ہمیں جبراً کہا جاتا ہے کہ تم ان باتوں کو مان لو کہ کسی زمانہ میں یسوع نے کئی ہزار مردے زندہ کر دیئے تھے اور اس کی موت کے وقت بیت المقدس کے تمام مر دے شہر میں داخل ہو گئے تھے۔ لیکن در حقیقت یہ ایسی ہی باتیں ہیں جیسا کہ ہندوؤں کی پستکوں ہے کہ کسی زمانہ میں مہادیو کی لٹوں سے گنگا بہ نکلی تھی ۔ اور راجہ رام چندر نے پہاڑوں کو انگلی میں پر اٹھا لیا تھا اور راجہ کرشن نے ایک تیر سے اتنے لاکھ آدمی مارے تھے۔ اب کہو کہ ان تمام بے ہودہ اور بے اصل باتوں کو ہم کیونکر مان لیں پھر جبکہ یہ باتیں خود ثبوت کی محتاج ہیں تو پھر ان کے ذریعہ سے کون سا قضیہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کیا اندھا اندھے کو راہ دکھلا سکتا ہے؟ افسوس کہ ایک پتے پر غور کرنے سے بہت کچھ صانع حقیقی کا پتہ لگ سکتا ہے۔ مگر ان کتابوں کا ہزار ورق بھی پڑھ کر موجد حقیقی کا کچھ نشان نہیں ملتا۔ پھر جبکہ انسان کے لئے پہلی اور بڑی مصیبت یہی ہے کہ وہ خدا تعالی کی ہستی کی شناخت کرنے کی راہ میں بڑے بڑے مشکلات اور شبہات میں مبتلا ہے یہاں تک کہ بسا اوقات پورا دہر یہ اور اکثر دہریت کی رگ اپنے اندر رکھتا ہے۔ اور اسی وجہ سے گناہ کرنے پر دلیر ہو جاتا ہے اور جس قدر سم الفار کی مہلک تاثیر کی ہیت اس کو اس حرکت سے ڈراتی ہے کہ وہ اس کے کھانے