خطبة اِلہامِیّة — Page 57
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۵۷ خطبه الهاميه عين الله عالم الاحوال - ولا هدم به عمود (۲۳) بزرگتر است بڑھ کر ہے و تا که من بدو ستون اور تاکہ میں اس کے ذریعہ سے اس الافتراء على الله والافتعال – واما الجمال الذي آن افترا را منهدم کنم که بر خدا می بندند ۔ مگر جمالی که داده شدم افترا کے ستون کو گرا دوں جو خدا پر باندھتے ہیں ۔ لیکن وہ جمال جو مجھ کو اعطيت فهو اثر لبروزي الأحمــدى مـن اللـــه ۔ ملا ہے پس آن اثر آن بروز من است که از خدائے صاحب لطف وہ میرے اس بروز کا اثر ہے جس کا نام بخشش کرنے والے خدا کی ذي اللطف والـنـوال – لاعيد به صلاح التوحيد و بخشش بروز احمدی نام می دارد طرف سے بروز احمدی ہے توحید را تا کہ من بداں نیکی تا کہ میں اس کے ذریعہ سے توحید کی نیکی کو المفقود من الالسن والقلوب والاقوال والافعال - که از زبان ها و دل ها و گفتار ها و کردار ہا گم شده بود واپس جو زبانوں اور دلوں اور باتوں اور کاموں سے جاتی رہی ہے واپس لاؤں بیارم و امر دینداری را قائم کنم واقيم به امر التدين والانتحال - وامرت ان و من حکم کرده شدم که اور اس کے ذریعہ سے دینداری کے امر کو قائم کروں اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ ☆ اقتل خنازير الافساد والالحاد والاضلال خنزیرہ ہائے فساد و الحاد و گمراه کردن را میں فساد اور الحاد اور گمراہ کرنے کے بکشم ۔ ان سؤروں کو ماروں اللفظ لفظ الحديث كما جاء في البخاري والمراد من القتل اتمام الحجة وابطال الباطل بالدلائل القاطعة والآيات السماوية لا القتل حقيقة۔ منه