خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 232

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۳۲ خطبه الهاميه لرسول الله صلى الله عليه وسلم بعد خطبة أبي بكر اللہ صلی رسول علیہ و سلم گفت۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرثیہ میں کہا در مرثیه الله كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِي فَعَمى عَلَيْكَ النَّاظِرُ تو مردمک چشم من بودی اکنون از فقدان تو چشم من نابینا شد تو میری آنکھ کی پتلی تھی اب تیرے جاتے رہنے سے میں اندھا ہو گیا مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ أَحَاذِرُ بعد از مردنت ہر که خواهد بمیرد من بر جان تو ے لرزیدم تیرے مرنے کے بعد جو چاہے مرے مجھے تو تیرے ہی مرنے کا ڈر تھا ادا يريد أن خوفى كله كان عليك، فإذا من ہمہ یعنی خوف من از بابت جان تو بود چون تو مردی یعنی مجھے تو سارا یہی ڈر تھا کہ کہیں تو نہ مر جائے لیکن اب جبکہ تو ہی مر گیا فلا أبالى أن يموت موسى أو عيسى فانظروا اکنوں من پیچ باک ندارم که موسی بمیرد یا عیسی بمیرد پس نگاہے بفرمائید تو اب مجھے کچھ پروا نہیں کہ موسیٰ مرے یا عیسی مرے۔ اب غور کرو کہ إليهم كيف أحبّوا نبيهم وكيف كان تصدر که اوشاں نبی خود را چه قدر دوست می داشتند و چه طور آداب محبت وہ اپنے نبی کو کس قدر دوست رکھتے تھے اور کس طرح محبت کے آداب منهم آداب المحبة وآثارها أيها المجادلون و نشان آل از وشال آشکار ے شدند اور نشان ان سے ظاہر ہوتے تھے۔