خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 226

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۲۶ خطبه الهاميه وكانوا يعرفونه ۔ هيهات هيهات لما تزعمون ! و شناسائے او بودند افسوس ! بریں گمان که اور اس کے پہچاننے والے تھے اس گمان پر جو تم کرتے ے کنید ہو افسوس ہے۔ وشتان بين الحق وبين هذه المفتريات و درمیان حق و ایں مفتریات فرقے حق میں اور ان افتراؤں میں بڑا بسیار فرق است۔ ہے۔ أما بقى عندكم مثقال ذرة من عقل به تعقلون؟ آیا ذره از عقل در سر شما باقی نیست که با آن مغز سخن را بفهمید کیا ذرہ سی عقل بھی تمہارے سر میں باقی نہیں رہی جس سے بات کی تہ کو پہنچ جاؤ بل هذه القصص خرافات لا أصل لها، ولا تقبلها بلکہ ایں یہ سب ہمہ بیهوده افسانہ ہائے بیہودہ هستند که هیچ اصلی ندارد قصے ہیں ان کی کچھ اصلیت نہیں و اور الفطرة الصحيحة، ولا توجد إليها الإشارة الجلية و فطرت صحیحه از قبول آنها سرباز زند درباره اینها اشاره پوشیده فطرت صحیحہ ان کو قبول نہیں کرتی اور ان کے بارہ میں کوئی پوشیدہ أو الخفية في كتاب الله ولا في أثـر رســولــه و نه آشکار و نه در کتاب الله یافته می شود در حدیث رسول اور کھلا اشارہ قرآن شریف میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ۱۳۷ فالذين يتبعونها لا يتبعون إلا سَمُرًا وے موجود است پس آنانکه پیروی اینها می کنند فی الحقیقت پیروی دروغ بے فروغ حدیث میں پایا نہیں جاتا۔ پس جو لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں وہ دراصل جھوٹ کی پیروی کرتے ہیں