خطبة اِلہامِیّة — Page 220
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۲۰ خطبه الهاميه و وإن قدر الله لا يبدل أيها الجاهلون ألا اور اے خدا جاہلان کی تقدیر خداوندی ہرگز تبدیل نمی تقدیر کبھی نہیں شود بدلتی ۔ تقرء ون الفاتحة وقد كنتم تصرون عليها اے پیروان حدیث ! آیا اکنون فاتحه را نمی خوانید و شما برای بسیار اصرار اے حدیث کی پیروی کرنے والو! کیا اب فاتحہ کو نہیں پڑھتے اور تم تو اس پر بہت اصرار ١٣٢) أيها المحدثون؟ اليوم عاداكم الفاتحة وأنتم مے کردید امروز فاتحه با شما کیا کرتے تھے۔ آج فاتحہ تم سے عداوت ے دشمنی کرتی کند شما و ہے اور تم عاديتموها وصار التزامها عذاب أنفسكم كأنها و بر باوے میکنید التزام آن جان شما عذاب شدید گردیده اس سے کرتے ہو اور اس کا التزام تمہاری جان پر سخت عذاب ہو گیا ہے جرعة غير سائغ تبلعونها ولا تستطيعون ۔ ولا گوئی آں یک جرعه ناگوار است که آن را از کام فرو بردن می خواهید و نمی توانید گویا کہ وہ ایک ناگوار گھونٹ ہے جسے نگلنا چاہتے ہو لیکن نگل نہیں سکتے تتلون بعد ذالك هذه السورة إلا وأنتم تتألمون۔ و امید است که بعد ازیں بغیر این که دل را صدمه رسد این سوره را نخواهید خواند اور امید ہے کہ اب اس کے بعد تم اس سورۃ کو بغیر درد و الم کے نہ پڑھو گے ولا تتلون : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ و اور غیر جب را المغضوب علیہم غیر المغضوب علیہم کا نخواهید لفظ پڑھو خواند گے