خطبة اِلہامِیّة — Page 196
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۹۶ خطبه الهاميه وقبلوه بصدق الطوية والجنان ۔۔ أعنى المسيح او اس را کو پذیرفتند قبول کیا یعنی یعنی آں اس مسیح مسیح را کو الذي خُتِمَتُ عليه هذه السلسلة، وهو المقصود که بروی جس پر یہ این سلسلہ ختم شد و ہماں مقصود سلسلہ ختم ہوا اور انعمت علیہم سے وہی مقصود اعظم الأعظم من قوله أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ كما تقتضى المقابلة اعظم از انعمت علیہم کیونکہ ہے بست مقابله چه که مقابلہ اقتضائے ہمیں معنی اسی کا مقتضی ہے ولا ينكره المتدبّرون۔ فإنه إذا عُلِمَ بالقطع واليقين می کند و تدبر کننده نمی تواند که انکار بر این معنی کند تدبر کرنے کا انکار نہیں کر سکتے۔ اور والے اس ۱۳۵) والتصريح والتعيين أن المغضوب عليهم هم مغضوب مغضوب علیہم علیہم اليهود الذين كفروا المسيح وحسبوه من الملعونين ہماں یہود هستند که مسیح را بکفر نسبت دادند و ملعونش وہی یہودی ہیں جنہوں نے مسیح کو کافر کہا اور اس کو كما يدل عليه قرينة قوله الضَّالِّينَ پنداشتند چنانچه قرینه قول الضالین بر این دلالت ہے کند ملعون جانا جیسا کہ الضالین کا لفظ اس پر دلالت کرتا ہے۔