خطبة اِلہامِیّة — Page 147
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۴۷ خطبه الهاميه فصارت اهواء كم كاهواء هم وقرب أن تجزون پس خواهش شما خواہش ایشان گردید و نزدیک است که شما تمہاری اور ان کی ایک خواہش ہو گئی اور قریب ہے کہ تم کو بھی وہی سزا ملے كجزاء هم فاتقوا الله ولا تتبعوا سنن المغضوب بہموں پاداش گرفتار بشوید که ایشان شدند پس از خدا بترسید و بر راه قوم مغضوب عليهم جو ان کو ملی پس خدا سے ڈرو اور مغضوب عليهم قوم کی راہ پر نہ چلو عليهم فيمسكم العذاب وانتم تقرء ون الفاتحة و شما فاتحه را میخوانید رفتار نکنید که شما را عذاب برسد ورنہ تم پر عذاب ہوگا اور تم سورہ فاتحہ کو پڑھتے ہو الاتعلمون۔ وقد سمى الله تلك اليهود آیا نمی دانید کیا تم نہیں جانتے کہ خدا نے ان یہودیوں کا نام که خدا آل یہود را بنام المغضوب عليهم وحذركم في ام الكتاب ان ٢٠) مغضوب عليهم مغضوب عليهم یاد رکھا کرد و در سورة فاتحہ شما را بترسانید ازیں کہ اور سورۃ فاتحہ میں تم کو اس بات سے ڈرایا کہ تكونوا كمثلهم وذكركم انهم اهلكوا بالطاعون شما مانند اوشان شوید و شما را یاد بداد که اوشان با طاعون هلاک شدند تم ان جیسے ہو جاؤ اور تم کو یاد دلایا کہ وہ طاعون سے ہلاک کئے گئے فمالكم تنسون وصايا الله ولا تتقون ربكم چه شد که احکام خدا را فراموش می کنید تمہیں کیا ہو گیا کہ تم خدا کے حکموں کو بھول گئے و از و نمی ترسید اور اس سے نہیں ڈرتے