خطبة اِلہامِیّة — Page 122
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۲۲ خطبه الهاميه وفتحت الطرق وزوّجت بنفوسكم نفوس و راه ها کشاده و پر امن گشته اور راستے کھل گئے و مردم ہائے ولایت ہا باہم متلاقی گشتہ اور ولایتوں کے لوگ آپس میں بلاد قصوى - وان الجبال نسفت اكثرها ملنے لگے و کوه ها از جا ہائے خود کنده شده اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہل گئے کہ فما ترون فيها عوجا ولا امتا - وتركت القلاص پس هیچ کجی و بلندی نمانده کوئی اونچائی نچائی باقی نہ رہی و شترها از سواری اور اونٹ سواری فلا يحمل عليها ولا يُسعى - فثبت ان زماننا و بار برداری متروک شده اور بار برداری سے متروک ہو گئے ۔ پس ثابت شد که این زمانه ما اس سے ثابت ہو گیا کہ یہ زمانہ هذا هو اخر الازمنة التي ذكرت في القرآن ہماں آخری زمانه است وہی آخری زمانہ ہے که ذکر آن در قرآن است کہ جس کا ذکر قرآن میں ہے وتَعَيَّنَ ان هذا الوقت هو وقت اخر الخلفاء و متعین شد که این وقت اور مقرر ہو گیا کہ یہ وقت ہماں وقت است که در او خاتم خلفاء وہی وقت ہے کہ جس میں خاتم خلفاء ۷۳) لامة نبينا خير الورى - وقد بلغ الثبـوت كـمـالـه مبعوث شدن ضروری بود و به تحقیق ثبوت این امر بکمال خود رسیدہ کا مبعوث ہونا ضروری تھا اور اس امر کا ثبوت اپنے کمال کو پہنچ گیا