خطبة اِلہامِیّة — Page 112
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۱۲ خطبه الهاميه ولا نفع لكم في حيوته والله في موته مآرب عظمی و در زندگی اوشاں شمارا پیچ نفع نیست و برائے خدا در موت ایشاں مقاصد عظیمہ ہستند اور ان کی زندگی میں تمہارا کچھ نفع نہیں ہے۔ مگر خدا کے لئے ان کی موت میں بڑے بڑے مقصد ہیں۔ ألة شركة في السماء مع ربنا فلا يبرح مقــامــة آیا حضرت عیسی علیه السلام را در سکونت آسمان با خدا تعالی شرکت است پس ازیں وجہ آسمان را کیا عیسی علیہ السلام کا آسمان میں سکونت رکھنا خدا تعالیٰ کے ساتھ شرکت ہے جو اس وجہ سے آسمان کو ولا يتدلى - فلا تحاربوا الله بجهلكم وصلوا على نمی گذارد و از آنجا نقل مکان نمی کند ۔ پس با خدا از جهل خود جنگ مکنید و بر پیغمبر خود نہیں چھوڑتے اور اس جگہ سے نقل مکان نہیں کرتے پس اپنی جہالت سے خدا کے ساتھ جنگ مت کرو اور خدا کے رسول نبيكم المصطفى - وهو الوصلة بين الله وخلقه صلی اللہ علیہ وسلم درود بفرستید و ہماں وسیله است در خدا و مخلوق او صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو کہ وہ خدا اور مخلوق میں وسیلہ ہیں ۔ وقاب قوسین او ادنی - اسمعـتـم مـنـى مـالا و در میں ہر دوقوس ربوبیت وعبودیت وجود او واقع شده - آیا شنیده آید از من چیزے کہ اور ان دونوں قوس الوہیت اور عبودیت میں آپ کا وجود واقع ہے۔ آیا مجھ سے کبھی کوئی ایسی بات سنی ہے اسمعكم القرآن او رأيتم عيسى في السماء قرآن آن را نشنوانیده است یا عیسی علیہ السلام را دیده اید در آسمان نشسته جو قرآن نے نہیں سنائی یا عیسی علیہ السلام کو آسمان میں دیکھ لیا ہے فكبر عليكم ان تُكَذِّبوا اعينكم او ظننتم ظنا پس شما را گران آمد که آنچه بچشم خود دیده اید انکار آں کنید یا ایں گمانے محض است جو تم کو گراں معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ اپنی آنکھ سے دیکھ لیا ہے اس کا انکار کرو۔ یا یہ محض گمان ہے