خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 90

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۹۰ خطبه الهاميه ۴۹ ومانهى - واذا قيل لهم أمنوا بما وعد الله و نه می کنند و چون گفته شود ایشان را که ایمان آرید بوعده الهی کچھ پروا نہیں کرتے جب ان کو کہا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدہ پر ایمان لاؤ و اور لا تنسوا نصيبكم من رحمة تُرْجى - قالوا لاندرى نصیب خود از رحمتے کہ امید داشته شده فراموش نه کنید میگویند که ما نمی دانیم که جس رحمت کے تم امیدوار ہو اس میں سے اپنا حصہ نہ گنواؤ تو کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے b ما الوعد وطبع على قلوبهم فلا يسمع احد وعده چه باشد و بر دل ایشاں مہر کرده شده پس هیچ کس کہ وعدہ کیا ہوتا ہے اور ان کے دل پر مہر لگی ہوئی ہے کوئی بھی ان میں سے نہیں دیکھتا از منهم ولا يرى - ولا يقبلون الحق وقد اتينا از یشان نمی شنود ونمی بیند و قبول نمی کنند حق را اور نہیں سنتا اور حق کو قبول نہیں کرتا و حالانکه دادیم حالانکہ ہم نے ٥٠ الدلائل كدر ابهى - الا ينظرون الى القرآن او ایشان را دلائل ہمچو گوہر ہائے روشن آیا نے بینند سوئے قرآن چمکدار موتیوں کی طرح ان کو دلائل دیئے ۔ کیا قرآن کی طرف نہیں دیکھتے یا بقية الحاشية یا مختلفة في هذا وفي ذالك فلذالک اختلف طريق التوليد دریں ہر دو پیدائش اغراض مختلف هستند ۔ پس برائے ہمیں در طریق تولید ان دونوں پیدائشوں میں مختلف اغراض ہیں ۔ اس لحاظ سے طریق ولادت میں من حضرة الكبرياء - منه اختلاف است ۔ منه اختلاف واقع ہوا ہے ۔ منہ